ایچ آئی وی اور دیگر بیماریوں کا ڈیٹا چھپانے سے وباؤں پر قابو نہیں پایا جا سکتا، ماہرین اور سابق وزراء کا انتباہ

اسلام آباد: پاکستان کے ممتاز ماہرینِ صحت، پبلک ہیلتھ پروفیشنلز اور سابق وزرائے صحت نے وفاقی اور صوبائی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بیماریوں کے ڈیٹا کو خفیہ رکھنے کی روش فوری ختم کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ خاص طور پر ایچ آئی وی کے درست اعداد و شمار چھپانے سے نہ صرف اس کے تدارک کے لیے اقدامات متاثر ہو رہے ہیں بلکہ وائرس عام آبادی میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 12 سے 15 ماہ میں ملک بھر میں کم از کم 2,108 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تعداد غیر محفوظ

وائٹلز نیوز اردو اب واٹس ایپ پر

وائٹلز نیوز اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

بلاگ

وائٹلز نیوز سوشل میڈیا

Youtube

tiktok

Instagram

Facebook

Whatsapp