پاکستان میں خون کے تقریباً 5 فیصد عطیات ہیپاٹائٹس، ایچ آئی وی، آتشک یا ملیریا سے متاثر نکلے

 

اسلام آباد: پاکستان میں سال 2023 کے دوران ٹیسٹ کیے گئے 15 لاکھ سے زائد خون کے عطیات میں سے تقریباً پانچ فیصد ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی، ایچ آئی وی، آتشک (سفلس) یا ملیریا سے متاثر نکلے، جبکہ ملک میں رضاکارانہ خون عطیہ کرنے والوں کی شرح آٹھ فیصد سے بھی کم رہی۔

عالمی ادارہ صحت کی تازہ ترین رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابقپاکستان میں سال 2023 میں 15 لاکھ 55 ہزار 462 خون کے عطیات کی اسکریننگ کے دوران 31 ہزار 325 نمونوں میں ہیپاٹائٹس سی، 20 ہزار 668 میں ہیپاٹائٹس بی، 2 ہزار 423 میں ایچ آئی وی، 18 ہزار 514 میں آتشک (سفلس) اور ایک ہزار 781 میں ملیریا کی تشخیص ہوئی۔

ان اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر 74 ہزار 700 سے زائد خون کے عطیات ان بیماریوں کے لیے ری ایکٹو یعنی مثبت پائے گئے، جو اسکرین کیے گئے تمام عطیات کا تقریباً پانچ فیصد بنتے ہیں۔ ہیپاٹائٹس سی سب سے زیادہ پائی جانے والی بیماری رہی جو دو فیصد سے زائد خون کے نمونوں میں سامنے آئی، جبکہ ہیپاٹائٹس بی کی شرح 1.33 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2023 کے دوران مجموعی طور پر 15 لاکھ 95 ہزار 248 خون کے عطیات جمع کیے گئے، تاہم ان میں سے صرف ایک لاکھ 26 ہزار 172 عطیات رضاکارانہ اور بلا معاوضہ عطیہ دہندگان نے دیے، جو کل عطیات کا صرف 7.9 فیصد بنتے ہیں۔

دوسری جانب 8 لاکھ 78 ہزار 189 خون کے عطیات مریضوں کے اہل خانہ یا متبادل عطیہ دہندگان سے حاصل کیے گئے، جو مجموعی عطیات کا 55 فیصد تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں خون کی فراہمی اب بھی بڑی حد تک رشتہ داروں اور دوستوں کے عطیات پر انحصار کرتی ہے۔

آتشک، جسے انگریزی میں سفلس (Syphilis) کہا جاتا ہے، ایک بیکٹیریا سے پھیلنے والی بیماری ہے جو عموماً جنسی رابطے کے ذریعے منتقل ہوتی ہے، تاہم متاثرہ خون کے ذریعے بھی منتقل ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی اور ایچ آئی وی بھی خون کے ذریعے منتقل ہونے والی اہم بیماریاں ہیں۔

ماہرین کے مطابق خون کے تمام عطیات کی لازمی اسکریننگ کے باعث متاثرہ خون مریضوں کو منتقل نہیں کیا جاتا، تاہم یہ اعداد و شمار ملک میں خون کے ذریعے منتقل ہونے والی بیماریوں کے پھیلاؤ کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔

پاکستان میں خون کے مراکز نے 2023 کے دوران 8 لاکھ 39 ہزار سے زائد ریڈ بلڈ سیلز، 3 لاکھ 88 ہزار سے زائد پلازما یونٹس اور 2 لاکھ 37 ہزار سے زائد پلیٹ لیٹ یونٹس بھی تیار کیے، جو حادثات، سرجریوں، کینسر، تھیلیسیمیا اور دیگر بیماریوں کے مریضوں کے علاج میں استعمال ہوئے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں