اسلام آباد: نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے مون سون سیزن کے دوران ڈینگی، ملیریا، ہیضہ، ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس اے اور ای، چکن گونیا سمیت مختلف متعدی بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ ہے۔
قومی ادارہ صحت کی جانب سے بدھ کے روز جاری کی جانے والی ایڈوائزری کے مطابق سیلابی صورتحال کے باعث کرنٹ لگنے، ڈوبنے، سانپ کے کاٹنے، آسمانی بجلی گرنے اور عمارتوں یا دیواروں کے گرنے سے زخمی ہونے اور ہلاکتوں کے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
این آئی ایچ کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ شدید بارشیں، سیلاب اور پانی جمع ہونے سے پینے کے پانی کے ذرائع آلودہ ہو جاتے ہیں، نکاسی آب اور صفائی کا نظام متاثر ہوتا ہے اور مچھروں کی افزائش کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوتا ہے، جس سے وبائی امراض کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ادارے کے مطابق سیلاب کے باعث آبادیوں کی نقل مکانی، عارضی پناہ گاہوں میں رش اور معمول کی صحت عامہ کی سرگرمیوں میں تعطل بھی بیماریوں کی منتقلی اور اموات میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
این آئی ایچ نے خبردار کیا کہ کھڑا پانی ڈینگی، ملیریا اور چکن گونیا کے پھیلاؤ کو تیز کرتا ہے، جبکہ آلودہ خوراک اور پانی ہیضہ، شدید اسہال، ٹائیفائیڈ اور ہیپاٹائٹس اے اور ای کے پھیلنے کا باعث بن سکتے ہیں۔ سیلابی پانی سے رابطے کے نتیجے میں لیپٹوسپائروسس جیسی بیکٹیریائی بیماری بھی لاحق ہو سکتی ہے، جو گردوں کو متاثر کرنے اور خون بہنے جیسی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ مون سون کے دوران خراب برقی تنصیبات سے کرنٹ لگنے، آسمانی بجلی گرنے، سانپ کے کاٹنے، ڈوبنے اور دیواروں، چھتوں یا عمارتوں کے گرنے سے زخمی ہونے کے واقعات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
این آئی ایچ نے صوبائی محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ بیماریوں کی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنایا جائے، وباؤں کی بروقت نشاندہی اور رپورٹنگ کو یقینی بنایا جائے اور تربیت یافتہ عملے کو تحقیقات اور ردعمل کے لیے متحرک رکھا جائے۔
ادارے نے مچھروں کی افزائش گاہوں کے خاتمے، ماحولیاتی صفائی، اسپرے مہمات، محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی، کلورینیشن، حفظان صحت کے فروغ اور متاثرہ علاقوں میں صفائی کے بہتر انتظامات پر بھی زور دیا ہے۔
این آئی ایچ نے ہسپتالوں کو ادویات، تشخیصی سہولیات، او آر ایس، وریدی محلول، خون کی مصنوعات، آکسیجن، اینٹی اسنیک وینم اور دیگر ہنگامی طبی سامان کے مناسب ذخائر برقرار رکھنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ سیلابی پانی اور گرے ہوئے بجلی کے تاروں سے دور رہیں، زیر آب عمارتوں میں داخل ہونے سے پہلے بجلی بند کریں، کمزور دیواروں اور درختوں کے قریب پناہ لینے سے گریز کریں اور بچوں کو نہروں، تالابوں اور دیگر آبی ذخائر سے دور رکھیں۔