بلاگ

مستقل بحرانوں میں گھری وزارتِ صحت

وزارتِ صحت اور اس سے ملحقہ اداروں میں اہم عہدے خالی ہیں، بھرتیاں بار بار منسوخ ہو رہی ہیں، ریگولیٹری ادارے مفلوج ہیں، سرکاری اسپتال بدانتظامی کا شکار ہیں اور قومی صحت پروگرام افرادی قوت اور مؤثر قیادت کے بغیر چلائے جا رہے ہیں۔

اسپانسرشپ یا بھتہ خوری؟ پاکستان میں طبی کانفرنسوں پر ہر سال 10 ارب روپے تک خرچ، مگر اصل فائدہ کس کو پہنچتا ہے؟

دوا ساز صنعت سے وابستہ متعدد افراد یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا اتنی خطیر رقم واقعی سائنسی علم کے فروغ اور مریضوں کی بہتری پر خرچ ہو رہی ہے، یا اس کا بڑا حصہ ایسی سرگرمیوں پر صرف ہو رہا ہے جن کا طبی تعلیم سے تعلق بہت محدود رہ گیا ہے۔

بھوک کی بصیرت

تحریر : محمد وقار بھٹی چند سال قبل جب انٹرنیشنل ڈائبٹیز فیڈریشن کے جرمن صدر پیٹر شوارز نے کراچی میں

آخر کب تک ؟؟؟

یہ واقعہ صرف ایک خبر نہیں بلکہ بلدیاتی حکومت، محکمہ صحت اور سندھ حکومت کی نااہلی کی ایک اور مثال

نرم لہجہ بھی آدھا علاج

کل میں نے ایک مختصر پیراگراف لکھا تھا جس پر کئی احباب نے تائید اور حوصلہ افزائی کی، لیکن کچھ