نجی میڈیکل کالجز سے زائد فیس وصولی واپس کروائی جائے گی، پی ایم ڈی سی کا اعلان

نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کی ایم بی بی ایس، بی ڈی ایس، مشترکہ اعلامیہ

اسلام آباد: پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے واضح کیا ہے کہ نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز نے اگر مقررہ حد سے زیادہ ٹیوشن فیس وصول کی ہے تو وہ اضافی رقم طلبہ کو واپس کرنے کے پابند ہوں گے، جبکہ اس بات پر بھی اتفاق کر لیا گیا ہے کہ سیشن 2025-26 کے لیے نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کی سالانہ ٹیوشن فیس 18 لاکھ روپے ہوگی۔

یہ بات پی ایم ڈی سی اور پاکستان ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ میڈیکل اینڈ ڈینٹل انسٹی ٹیوشنز (پامی) کے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں کہی گئی، جس میں فیسوں کے تعین، اضافے، منافع کی حد اور خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی کا واضح طریقہ کار بیان کیا گیا ہے۔ پی ایم ڈی سی حکام کے مطابق کسی بھی نجی میڈیکل یا ڈینٹل کالج کو 18 لاکھ روپے سالانہ سے زائد ٹیوشن فیس وصول کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور اس حد سے زیادہ وصول کی گئی رقم غیر قانونی تصور کی جائے گی، جسے طلبہ کو واپس کرنا لازم ہوگا۔

مشترکہ اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ نائب وزیراعظم کی سربراہی میں قائم کمیٹی کے تفصیلی اجلاس کے بعد کیا گیا، جس میں 18 دسمبر 2025 کو پی ایم ڈی سی کونسل کے فیس کیپ سے متعلق فیصلے کی قانون کے مطابق توثیق کی گئی۔ پی ایم ڈی سی نے فیسوں کے تعین کے عمل میں آڈٹ شدہ مالیاتی اکاؤنٹس، فی طالب علم لاگت، اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت اور قانونی جانچ پڑتال کو بنیاد بنایا۔

اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ 18 لاکھ روپے کی مقررہ ٹیوشن فیس میں ہوسٹل فیس، ٹرانسپورٹ چارجز، یونیورسٹی فیس اور امتحانی فیس شامل نہیں ہوں گی۔ تاہم کالجز کو ٹیوشن فیس میں سالانہ زیادہ سے زیادہ پانچ فیصد اضافے کی اجازت ہوگی، جو کنزیومر پرائس انڈیکس سے منسلک ہوگی اور اس کا اطلاق سیشن 2025-26 سے ہوگا۔

پی ایم ڈی سی نے یہ بھی طے کیا ہے کہ نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز ریونیو کا زیادہ سے زیادہ 20 فیصد منافع حاصل کر سکیں گے۔ کسی بھی کالج کی جانب سے مقررہ حد سے زیادہ فیس وصول کرنا غیر مجاز ہوگا اور اس پر ریگولیٹری ایکشن لیا جائے گا، جس میں جرمانے اور دیگر تادیبی اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے کے مطابق نجی ادارے آڈٹ شدہ مالیاتی اکاؤنٹس کی بنیاد پر 18 لاکھ روپے سے زائد اور زیادہ سے زیادہ 25 لاکھ روپے تک فیس بڑھانے کے لیے پی ایم ڈی سی کو مشروط درخواست دے سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے بینک اسٹیٹمنٹس یا ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے کی شرط نہیں ہوگی۔ تاہم اس ضمن میں کسی بھی تنازع کی صورت میں فیصلہ فیس کمیٹی کرے گی، جس میں پامی کے تین نمائندے شامل ہوں گے اور کمیٹی کا فیصلہ حتمی تصور کیا جائے گا۔

پی ایم ڈی سی اور پامی نے یہ بھی اعلان کیا کہ فیس کیپ کی توثیق اور مشروط فیس اضافے کے ریگولیٹری فریم ورک کے بعد پامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں فیس کیپ کے خلاف دائر اپنی درخواست واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پی ایم ڈی سی حکام کے مطابق کونسل تمام نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں فیس کی حد پر سختی سے عملدرآمد کرائے گی۔

اعلامیے کے آخر میں پی ایم ڈی سی اور پامی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ طلبہ اور عوامی مفاد کے تحفظ، شفافیت، احتساب اور طبی و دندان ساز تعلیم کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے فیسوں کے ضوابط پر سختی سے عمل کیا جائے گا اور تمام نجی ادارے ان قواعد کے پابند ہوں گے-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے