ابو الوریٰ
کراچی کی ایک 16 سالہ بچی "مریم” ایک ایسی بیماری سے لڑ رہی ہے جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ مریم کو تھیلیسیمیا ہے، اور اس سے بھی زیادہ مشکل بات یہ ہے کہ اس کا بلڈ گروپ دنیا کے نایاب ترین گروپس میں سے ایک، بومبے بلڈ گروپ ہے۔
مریم کو ہر ماہ دو بار خون کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن اس کا بلڈ گروپ اتنا نایاب ہے کہ مناسب ڈونر تلاش کرنا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔
مریم کے والد "ارشد خان” بتاتے ہیں کہ جب پہلی بار بچی کی طبیعت خراب ہوئی تو عام ٹیسٹ کروائے گئے، مگر بعد میں معلوم ہوا کہ یہ ایک پیچیدہ خون کی بیماری ہے۔ مزید ٹیسٹ کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ اس کا بلڈ گروپ عام اے، بی یا او نہیں بلکہ ایک نایاب قسم ہے، جس کے لیے مخصوص ڈونر ہی درکار ہوتا ہے۔
ان کے مطابق، "یہ ہمارے لیے ایک آزمائش تھی، کیونکہ نہ صرف بیماری مشکل تھی بلکہ خون کا انتظام کرنا اس سے بھی زیادہ مشکل تھا۔”
وقت کے ساتھ کچھ ایسے افراد ملے جو اسی نایاب بلڈ گروپ کے حامل تھے، اور اب وہ رضاکارانہ طور پر خون عطیہ کرتے ہیں۔ مگر ایسے افراد کی تعداد انتہائی کم ہے، جس کی وجہ سے ہر بار خون کا بندوبست کرنا ایک جدوجہد بن جاتا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں خون کے گروپس کیا ہوتے ہیں؟
خون کے گروپس کیا ہوتے ہیں اور کیسے بنتے ہیں؟، بومبے (بمبئی) بلڈ گروپ کیا ہے، پاکستان میں خون کے عطیات دینے سے لوگ کیوں ہچکچاتے ہیں،
یہ اور اس جیسے کئی اور سوالات کے جواب تلاش کرنے کیلئے خون کی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر ثاقب انصاری سے بات کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بلڈ گروپس کی جانچ اے بی او اور آر ایچ ڈی سسٹم کے ذریعے کی جاتی ہے، اینٹی جین اور اینٹی باڈیز دونوں ریڈ بلڈ سیلز کی اوپری سطح پر موجود ہوتے ہیں، اے بی او بلڈ گروپ سسٹم 4 اقسام کے بلڈ گروپ اے، بی، اے بی اور او پر مشتمل ہوتا ہے اور بنیادی طور پر سرخ خون کے خلیوں اور پلازما میں موجود اینٹی جینز اور اینٹی باڈیز پر مبنی ہوتا ہے۔
ڈاکٹر ثاقب انصاری کا کہنا ہے کہ اینٹی جینز اور اینٹی باڈیز پروٹین مالیکیولز ہیں جن میں اینٹی جین ریڈ بلڈ سیلز کی اوپری سطح پر موجود ہوتے ہیں اور اینٹی باڈیز پلازما میں موجود ہوتے ہیں جو دفاعی نظام کہلاتا ہے، عام طور پر او بلڈ گروپ کا ایک بیسک اسٹرکچر ہوتا ہے، یا یوں سمجھ لیں ہر ریڈ سیل کی اوپری سطح پر او بلڈ گروپ کا پروٹین ہوتا ہے، جس کے اوپر اے کا انٹی جین لگ جاتا ہے تو اے بلڈ گروپ بن جاتا ہے، اگر بی کا اینٹی جین لگ جائے تو وہ بی بلڈ گروپ بن جاتا ہے اور اگر اے بی دونوں کے اینٹی جین لگ جائیں تو ایک اور بلڈ گروپ اے بی بن جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ریڈ سیل کی اوپری سطح پر موجود او بلڈ گروپ کے بیسک اسٹرکچر پر اگر اے اور بی دونوں کے اینٹیجن نہ لگیں تو یہ او بلڈ گروپ کہلائے گا، اے، بی، او بلڈ گروپ کے علاوہ جو زیادہ اہم بلڈ گروپ سسٹم ہے وہ آر ایچ (ڈی) بلڈ گروپ سسٹم ہے اور آر ایچ میں جو ڈی ہوتا ہے وہ سب سے اہم ہوتا ہے، چنانچہ وہ اے، بی، اے بی یا او بلڈگروپ والے جو آر ایچ ڈی بگ ڈی کیری کر رہے ہوتے ہیں انہیں پازیٹو بلڈ گروپ کہتے ہیں، اسی طرح وہ بلڈ گروپ جو آر ایچ ڈی کیری نہیں کر رہے ہوتے، انہیں نیگیٹو بلڈ گروپس کہتے ہیں، پاکستان میں 5 سے 7 فیصد عوام نیگیٹو بلڈ گروپ کے حامل ہیں اور یہ بھی کسی حد تک کمیاب بلڈ گروپس میں شمار ہوتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ خون کے سرخ خلیوں پر موجود ایسے اینٹی جین یا پروٹین ہوتے ہیں جو جنیاتی طور پر خون کے لال خلیوں پر ظاہر ہوجاتے ہیں، ان میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ اس مخصوص جسم کے علاوہ جو دوسرے لوگوں میں اینٹی جین موجود ہیں ان کیخلاف پلازما میں اینٹی باڈیز بنالیتے ہیں، اس کی مثال ایسی ہے کہ اگر کسی کا بلڈ گروپ اے ہے تو وہ پلازما میں اینٹی بی بنا لیتا ہے اسی طرح اگر کسی کے ریڈ سیلز پر بی کے اینٹی جین موجود ہیں تو وہ پلازما میں اے اینٹی باڈیز بنالے گا، اسی طرح او بلڈ گروپ والے اے اور بی کیخلاف اینٹی باڈیز بنالیتے ہیں۔
ڈاکٹر ثاقب نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جو فرد جس طرح کا ریڈ سیل پر اینٹی جین کیری کر رہا ہوتا ہے اسے اسی قسم کا خون لگایا جاسکتا ہے، اے بلڈ گروپ والے کو اے بلڈ گروپ ہی لگ سکتا ہے کیونکہ اس کے جسم میں اینٹی بی ہوتا ہے اور بی والے کو بی ہی لگ سکتا ہے کیونکہ وہ اینٹی اے کیری کر رہا ہوتا ہے، اسی طرح او بلڈ گروپ والے فرد کو صرف او بلڈ گروپ ہی لگ سکتا ہے کیونکہ اس کے پاس اینٹی اے اور اینٹی بی دونوں موجود ہوتے ہیں جبکہ او بلڈ کے ریڈ سیل کے اوپر اے اور بی اینٹی جین دونوں نہیں ہوتے تو او بلڈ گروپ والا بلڈ دے تو سب کو سکتا ہے کیونکہ اس کے ریڈ سیلز پر اے اور بی دونوں اینٹی جین نہیں ہیں لیکن اس کے خون کے پلازما میں اینٹی اے اور اینٹی بی بھی موجود ہے چنانچہ ایسے فرد کو اے اور بی بلڈ گروپ کے حامل افراد کا خون لگ نہیں سکتا۔
ڈاکٹر ثاقب کے مطابق او انٹرنیشنل ڈونر ہوتا ہے لیکن او بلڈ گروپ بومبے بلڈ گروپ کو بھی نہیں لگایا جاسکتا، بومبے بلڈگروپ کو صرف بومبے بلڈ گروپ ہی لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تین بلڈ گروپس زیادہ اہم ہیں جو پیدائشی طور پر ریڈ سیل پر ظاہر ہوتے ہیں، مگر اس کے علاوہ بھی 150 کے قریب ریڈ سیل اینٹی جین ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جسم میں خون منتقل کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ خون دینے والے اور جس کو خون چڑھایا جارہا ہے ان کے خون میں موجود اینٹی جینز ایک جیسے ہوں، اگر ایسا نہ کیا جائے تو جسم نئے اینٹی جینز کو مسترد کردیتا ہے اور اینٹی باڈیز نئے ریڈ بلڈ سیلز پر حملہ کر دیتے ہیں، یہ ری ایکشن انسان کی جان بھی لے سکتا ہے، لہٰذا خون دیتے اور لیتے ہوئے بلڈ ٹائپ کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرنا ضروری ہے۔
ڈاکٹر ثاقب نے مزید کہا کہ پاکستان میں کوئی ریئر بلڈ گروپ رجسٹری موجود نہیں ہے، جس کی وجہ سے کمیاب خون کے گروپ یا خون کی بیماریوں میں مبتلا بچوں کو خون کے عطیات کے حصول کیلئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بومبے بلڈ گروپ کیا ہے؟
بمبئی بلڈ گروپ انسانوں میں ایک نایاب ترین خون کا گروپ ہے، یہ سرخ خون کے خلیوں پر ایچ مائیجن کی عدم موجودگی کی خصوصیت ہے، وہ افراد جن کا او بلڈ گروپ کا اسٹرکچر یا پروٹین بھی نہیں ہوتا، یعنی وہ ریڈ سیل کی اوپری سطح پر موجود بیس جس پر اے اور بی اینٹی جین آکر لگتے ہیں، جن افراد میں یہ بیسک اینٹی جین ہی نہ ہو، اسے بومبے بلڈ گروپ کہتے ہیں اور یہ وہ افراد ہیں جو او بلڈ کیخلاف بھی اینٹی باڈیز بناتے ہیں اور ایسے افراد کو او بلڈ گروپ بھی نہیں لگایا جاسکتا ہے، بومبے بلڈ گروپ کو صرف بومبے بلڈ گروپ ہی لگایا جائے گا، بومبے بلڈ گروپ ایک ایسا بلڈ گروپ ہے جو انتہائی نایاب ہے۔
ڈاکٹر ثاقب انصاری نے بتایا کہ بومبے بلڈ گروپ کی دریافت سب سے پہلے بھارت کی مغربی ریاست مہاراشٹر کے دارالحکومت بمبئی یا بومبے میں ہوئی تھی، ڈاکٹر وائی ایم بھینڈے نے 1952ء میں اسے دریافت کیا تھا، تمام خون کے گروپ انگریزی حروف تہجی اے، بی، اے بی اور او کے نام سے جانے جاتے ہیں لیکن یہ گروپ ایک شہر کے نام سے جانا جاتا ہے۔
آٹو لوگس تکنیک
ڈاکٹر ثاقب انصاری نے بتایا کہ ترقی یافتہ ممالک میں جہاں بلڈ بینکنگ کی سہولیات بہتر ہیں، نایاب بلڈ گروپس کو منفی 80 درجہ حرارت پر 2 سال کیلئے محفوظ کرلیا جاتا ہے، اس تکنیک کو آٹو لوگس تکنیک کہتے ہیں،
جس میں نایاب خون کے حامل افراد کا خون لے کر اسے محفوظ کرلیا جاتا ہے، یہ عموماً اس لئے کیا جاتا ہے کہ اگر ایسے افراد کا آپریشن ہونا ہو تو 2 مہینے پہلے خون لیکر محفوظ کرلیا جاتا ہے اور آپریشن کے وقت اپنا ہی خون لگادیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس دوران ہیماٹین ایکس یعنی آئرن بی 12 فلوئیڈ دیکر خون کی فارمیشن کو بہتر کرلیا جاتا ہے، کیونکہ فرض کریں اگر کسی کا ہیموگلوبن 12 یا 13 تھا اور خون دیکر اس میں کمی آگئی ہے تو اسے بی 12 فلوئیڈ یا آئرن دیکر اس کمی کو پورا کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر ثاقب کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس طرح کی جدید سہولیات موجود نہیں ہیں لیکن چلڈرن اسپتال اس طرح کے جدید بلڈ بینکس کے قیام کیلئے کوشاں ہے۔
خون کے عطیات میں کمی کی وجوہات
ڈاکٹر ثاقب انصاری نے بتایا کہ پاکستان میں سالانہ 25 سے 30 لاکھ خون کے عطیات کی ضرورت ہوتی ہے، بدقسمتی سے جمع ہونیوالے خون کے عطیات اس ضرورت کے نصف ہی جمع ہوپاتے ہیں، پاکستان میں صرف تھیلیسیمیا کے ہی ایک لاکھ بچے ہیں، جنہیں ہر مہینے ایک یا دو خون کی بوتلوں کی ضرورت ہوتی ہے یعنی 18 لاکھ خون کے عطیات تو صرف تھیلیسیمیا کے بچوں کو ضرورت ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ زچگی کے دوران، حادثات میں زخمی ہونے والوں کو اور مختلف آپریشنز میں مریضوں کو خون کی ضرورت ہوتی ہے، خون کی دوسری بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو خون کی ضرورت ہوتی ہے، رمضان کے مہینے میں خون کے عطیات کی شدید کمی ہوجاتی ہے کیونکہ رمضان میں لوگ اس لئے خون نہیں دیتے کہ شاید اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا یا ان کے جسم میں توانائی کمی ہوجائے گی۔
ڈاکٹر ثاقب کا کہنا ہے کہ میری شہریوں سے درخواست ہے وہ خون کے عطیات ضرور دیں خصوصاً رمضان المبارک میں خون کے عطیات کی شدید قلت ہوتی ہے اور خون کی بیماریوں میں مبتلا بچوں کی زندگیاں داؤ پر لگ جاتی ہیں۔