کراچی: نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز (NICVD) کو مستقبل میں ہارٹ ٹرانسپلانٹ پروگرام شروع کرنے کے لیے تیاریوں کا آغاز کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے، جبکہ گورننگ باڈی نے لیفٹ وینٹریکولر اسسٹ ڈیوائس (LVAD) ٹیکنالوجی پر مبنی ایڈوانسڈ ہارٹ فیلئر پروگرام کے قیام کی اصولی منظوری دے دی۔
یہ فیصلہ پیر کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت این آئی سی وی ڈی گورننگ باڈی کے 85ویں اجلاس میں کیا گیا۔
گورننگ باڈی نے این آئی سی وی ڈی کو مستقبل کے ہارٹ ٹرانسپلانٹ پروگرام کے لیے ابتدائی و انتظامی کام شروع کرنے کی اجازت دے دی، جبکہ جدید ہارٹ فیلئر پروگرام کے لیے LVAD ٹیکنالوجی کے استعمال کی بھی اصولی منظوری دی گئی۔
این آئی سی وی ڈی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی کہ جدید امراضِ قلب کی سہولیات کے لیے ملکی و بین الاقوامی سرکردہ اداروں کے ساتھ تعاون کیا جائے تاکہ تکنیکی معاونت، تربیت اور استعداد کار میں اضافہ کیا جاسکے۔
اجلاس میں این آئی سی وی ڈی کی 2025 کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ سال ادارے میں 2 لاکھ 96 ہزار 731 ایمرجنسی جبکہ 4 لاکھ 43 ہزار 610 او پی ڈی مریضوں کا معائنہ کیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں این آئی سی وی ڈی میں 9 ہزار 279 پرائمری پی سی آئی، 3 ہزار 69 بچوں کے کیتھیٹرائزیشن و انٹروینشن، 5 ہزار 649 ارلی انویسیو پروسیجرز، 889 الیکٹو انجیوپلاسٹیز اور 1400 سے زائد کارڈیک سرجریز کی گئیں۔
ادارے میں 291 پی ٹی ایم سی، 40 ٹی اے وی آئی اور 18 ہزار 875 انجیوگرافیز بھی کی گئیں، جبکہ سال کے دوران 54 ہزار 295 مریض داخل ہوئے اور 88 ہزار 165 ایکو کارڈیوگرافی کے ٹیسٹ کیے گئے۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ 2019 سے 2025 کے دوران سندھ سے باہر کے 13 لاکھ 20 ہزار سے زائد مریضوں کا کراچی میں واقع این آئی سی وی ڈی میں علاج کیا گیا۔ ان مریضوں میں پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے آنے والے مریض بھی شامل ہیں۔
اجلاس میں این آئی سی وی ڈی کے مختلف توسیعی منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں 300 بستروں پر مشتمل علیحدہ پیڈیاٹرک کارڈیالوجی یونٹ کی تعمیر شامل ہے۔ سات منزلہ عمارت میں پانچ آپریشن تھیٹرز، چار کیتھیٹرائزیشن لیبارٹریز، ہائبرڈ لیب اور جدید تشخیصی سہولیات قائم کی جائیں گی۔
نئے 100 بستروں کے کارڈیک ایمرجنسی سینٹر اور 59 ہزار مربع فٹ پر محیط جدید او پی ڈی کی تعمیر پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے جاری منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
گورننگ باڈی نے امریکا میں مقیم ماہر امراضِ قلب پروفیسر جاوید سلیمان کی این آئی سی وی ڈی میں رضاکارانہ طور پر پروفیسر آف کارڈیالوجی اور میڈیکل ڈائریکٹر کے طور پر تقرری کی بھی منظوری دی۔ اس تقرری سے ادارے یا سندھ حکومت پر کوئی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
اجلاس میں پیڈیاٹرک کارڈیالوجی کے لیے BPS-17 میڈیکل آفیسر کی ایک نئی اسامی پیدا کرنے جبکہ چیف آپریٹنگ آفیسر اور چیف فنانشل آفیسر کی BPS-19 کی آسامیوں پر دو سالہ کنٹریکٹ کے تحت بھرتی کی بھی منظوری دی گئی۔
ملازمین کی ترقی اور اپ گریڈیشن سے متعلق درخواست پر گورننگ باڈی نے موجودہ NICVD Employees (Service) Rules and Regulations 2016 کے تحت کیسز پر کارروائی کی تجویز کا جائزہ لیا، تاہم وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ترقیوں کے کیسز پر غور سے قبل 2025-26 کے نظرثانی شدہ قواعد کو محکمہ قانون سے جانچ کروایا جائے۔
اجلاس میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب، ارکان سندھ اسمبلی رخسانہ پروین اور سعدیہ جاوید، سیکریٹری صحت طاہر سانگی، سیکریٹری خزانہ اصغر میمن، این آئی سی وی ڈی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر طاہر صغیر، پیشنٹس ایڈ فاؤنڈیشن کے بانی مشتاق چھاپرا، پروفیسر شاہد سامی اور دیگر گورننگ باڈی ارکان نے شرکت کی۔