52 اہم ادویات کی قیمتوں کی منظوری کیلئے وزیراعظم سے ملاقات کی درخواست

اسلام آباد: کابینہ کی ڈرگ پرائسنگ کمیٹی کی منظوری کے باوجود کینسر، ذیابیطس، ہیموفیلیا اور دیگر سنگین بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی 52 اہم اور جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں کا تعین تاحال نہیں ہو سکا، جس پر وفاقی وزارت صحت نے معاملہ وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے رکھنے کیلئے ملاقات کا وقت مانگ لیا ہے۔

وزارت صحت کے حکام کے مطابق وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال اور وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب وزیراعظم سے ملاقات کرکے ان ادویات کی قیمتوں کی وفاقی کابینہ سے منظوری کیلئے ان کی حمایت حاصل کریں گے۔

مجوزہ ملاقات میں وفاقی سیکریٹری صحت محمد اسلم غوری اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبیداللہ بھی شریک ہوں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ 52 نئی رجسٹرڈ ادویات کی قیمتیں کابینہ کی ڈرگ پرائسنگ کمیٹی 24 جولائی کو منظور کر چکی ہے، تاہم وفاقی کابینہ کی حتمی منظوری کے بغیر ڈریپ ان ادویات کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کر سکتا۔

وزارت صحت کے حکام کے مطابق اسی وجہ سے متعدد رجسٹرڈ ادویات قیمتوں کی ابتدائی منظوری کے باوجود باقاعدہ طور پر مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہو پا رہیں۔

حکام نے بتایا کہ وزارت صحت چاہتی ہے کہ وزیراعظم کی منظوری کے بعد یہ معاملہ جلد وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ قیمتوں کی حتمی منظوری کے بعد ڈریپ زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمتیں مقرر اور نوٹیفائی کر سکے اور ادویات مارکیٹ میں دستیاب ہو سکیں۔

52 ادویات کی قیمتوں کی منظوری سینیٹر محمد اورنگزیب کی سربراہی میں قائم کابینہ ڈرگ پرائسنگ کمیٹی نے ڈریپ کی ڈرگ پرائسنگ کمیٹی اور پالیسی بورڈ کی سفارشات کی روشنی میں دی تھی۔

وزارت صحت کے حکام کے مطابق ان ادویات میں کینسر، ذیابیطس اور ہیموفیلیا کے علاج کے علاوہ پارکنسنز، خودکار مدافعتی امراض اور خون کے لوتھڑوں سے متعلق بیماریوں میں استعمال ہونے والی ادویات شامل ہیں۔

فہرست میں سنگین انفیکشنز، انتہائی نگہداشت اور ہنگامی طبی حالات میں استعمال ہونے والی ادویات بھی شامل ہیں۔

وزارت صحت وزیراعظم کے سامنے ضروری ادویات کے ان “ہارڈ شپ کیسز” کو بھی رکھنا چاہتی ہے جن میں ادویہ ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان نے قیمتوں میں نظرثانی کی درخواستیں دے رکھی ہیں۔

حکام کے مطابق کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ بعض ضروری ادویات کی موجودہ مقررہ قیمتوں پر مسلسل فراہمی برقرار رکھنا مشکل ہو رہا ہے اور قیمتوں میں مناسب نظرثانی نہ ہونے کی صورت میں ان کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔

ان ہارڈ شپ کیسز میں انفلوئنزا ویکسین اور کینسر کے مریضوں کیلئے درد کے علاج میں استعمال ہونے والی مارفین سمیت دیگر ضروری ادویات شامل ہیں۔

وزارت صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ وزیراعظم سے ملاقات کا بنیادی مقصد 52 نئی ادویات اور ضروری ادویات کے ہارڈ شپ کیسز پر فیصلہ جلد کرانا ہے تاکہ قانونی اور قیمتوں سے متعلق کارروائی مکمل کرکے ان ادویات کی مارکیٹ میں دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں