اسلام آباد: حکومت پاکستان نے شعبہ طب و صحت کی 15 نمایاں شخصیات کیلئے سول اعزازات کا اعلان کردیا، جن میں پروفیسر فیصل سعود ڈار کو ہلال امتیاز جبکہ پروفیسر ڈاکٹر سید جمال رضا، مرحوم پروفیسر ڈاکٹر طاہر شمسی اور مرحوم ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کو ستارہ امتیاز دینے کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبیداللہ کو بھی ستارہ امتیاز کیلئے منتخب کیا گیا ہے۔
یوم آزادی پر اعلان کردہ سول اعزازات میں طب و صحت کی 15 شخصیات میں ایک کو ہلال امتیاز، پانچ کو ستارہ امتیاز اور نو کو تمغہ امتیاز دیا جائے گا۔ ڈاکٹر طاہر شمسی اور ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کو ستارہ امتیاز بعد از وفات دیا جائے گا۔
ملک کے صف اول کے ماہر اطفال اور پیڈیاٹرک اینڈوکرائنولوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر سید جمال رضا کو بچوں کے علاج، طبی تعلیم، تحقیق اور خصوصی طبی سہولیات کے فروغ کیلئے کئی دہائیوں پر محیط خدمات کے اعتراف میں ستارہ امتیاز کیلئے منتخب کیا گیا ہے۔
ڈاؤ میڈیکل کالج سے فارغ التحصیل پروفیسر جمال رضا نے لندن کے گریٹ اورمنڈ اسٹریٹ ہسپتال سے پیڈیاٹرک اینڈوکرائنولوجی میں خصوصی تربیت حاصل کی۔ وہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کراچی میں پروفیسر آف پیڈیاٹرک میڈیسن، پیڈیاٹرک اینڈوکرائن یونٹ کے سربراہ اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر رہ چکے ہیں جبکہ اس وقت سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیونیٹولوجی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں۔
پروفیسر جمال رضا نے بچوں کے علاج کے ساتھ ماہرین اطفال کی کئی نسلوں کی تربیت کی اور ملک میں پیڈیاٹرک اینڈوکرائنولوجی سمیت بچوں کیلئے خصوصی طبی سہولیات کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان میں جگر کی پیوندکاری کے نمایاں ترین ناموں میں شامل پروفیسر فیصل سعود ڈار کو ہلال امتیاز کیلئے منتخب کیا گیا ہے۔ پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سینٹر لاہور کے ڈین پروفیسر فیصل ڈار نے ملک میں لیونگ ڈونر لیور ٹرانسپلانٹ کے قیام اور فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ان کے کیریئر میں کیے جانے والے لیور ٹرانسپلانٹس کی تعداد 2,500 سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں بالغوں اور بچوں کے پیچیدہ آپریشن بھی شامل ہیں۔ انہوں نے پاکستانی ٹرانسپلانٹ سرجنز کی تربیت اور ملک میں جگر کی پیوندکاری کی مقامی صلاحیت بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان میں بون میرو اور اسٹیم سیل ٹرانسپلانٹ کے بانیوں میں شمار ہونے والے مرحوم پروفیسر ڈاکٹر طاہر سلطان شمسی کو بعد از وفات ستارہ امتیاز کیلئے منتخب کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر طاہر شمسی اور ان کی ٹیم نے 1995 میں کراچی میں اسٹیم سیل ٹرانسپلانٹ کا آغاز کرکے لیوکیمیا، تھیلیسیمیا، اپلاسٹک انیمیا اور خون کے دیگر سنگین امراض میں مبتلا مریضوں کیلئے پاکستان میں جدید علاج کی نئی راہ کھولی۔ بعد ازاں انہوں نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیز اینڈ بون میرو ٹرانسپلانٹیشن قائم کیا، جو امراض خون، بلڈ کینسر اور بون میرو ٹرانسپلانٹ کے علاج، تحقیق اور تربیت کا اہم مرکز بن گیا۔
دسمبر 2021 میں انتقال کرنے والے ڈاکٹر طاہر شمسی نے ماہرین امراض خون اور ٹرانسپلانٹ فزیشنز کی نئی نسل کی تربیت میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
ملک کی ممتاز ماہر امراض متعدیہ مرحوم ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کو بھی بعد از وفات ستارہ امتیاز کیلئے منتخب کیا گیا ہے۔ مئی 2026 میں انتقال کرنے والی ڈاکٹر نسیم صلاح الدین نے کئی دہائیاں متعدی امراض کے علاج، ڈاکٹروں کی تربیت اور بالخصوص ریبیز کی روک تھام کیلئے وقف کیے رکھیں۔
وہ انڈس ہسپتال میں شعبہ امراض متعدیہ کی سربراہ رہیں اور پاکستان میں ریبیز سے بچاؤ اور جانور کے کاٹنے کے بعد فوری حفاظتی علاج کی اہم ماہرین میں شمار ہوتی تھیں۔ وہ عالمی ادارہ صحت کے ایکسپرٹ ایڈوائزری پینل آن ریبیز سے بھی طویل عرصے تک وابستہ رہیں۔
دوسری جانب ادویات اور علاج میں استعمال ہونے والی مصنوعات کے قومی ریگولیٹر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبیداللہ کو بھی ستارہ امتیاز دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر عبیداللہ ملک میں ادویات، ویکسینز، میڈیکل ڈیوائسز اور دیگر طبی مصنوعات کی ریگولیشن کے ذمہ دار وفاقی ادارے ڈریپ کی سربراہی کر رہے ہیں۔
طب کے شعبے میں ڈاکٹر شاہ خالد اور پروفیسر ڈاکٹر محمد خرم کو بھی ستارہ امتیاز جبکہ ڈاکٹر نعیم تاج، ڈاکٹر عبد الواسع، ڈاکٹر محمد شریف ہاشمانی، ڈاکٹر معاذ الحسن، ڈاکٹر راجہ امجد محمود، ڈاکٹر محمد ذوالفقار غوری، ڈاکٹر اعجاز قادر، ڈاکٹر صلاح الدین اور پروفیسر ڈاکٹر ساجد نذیر بھٹی کو تمغہ امتیاز کیلئے منتخب کیا گیا ہے۔
اعلان کردہ سول اعزازات آئندہ سال 23 مارچ 2027 کو یوم پاکستان کے موقع پر منعقد ہونے والی تقاریب میں باضابطہ طور پر عطا کیے جائیں گے۔