سابق وزیراعلیٰ کی صاحبزادی کی ملازمت میں توسیع پر جناح اسپتال کے ڈاکٹروں کا شدید احتجاج، نظرثانی کا مطالبہ

کراچی: سابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی صاحبزادی پروفیسر ڈاکٹر نگہت شاہ کو ریٹائرمنٹ کے بعد مزید تین سال کی تعینات کےلیے سندھ کابینہ کے فیصلے پر جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) کے اساتذہ اور ڈاکٹروں میں بے چینی پھیل گئی ہے، جبکہ شعبہ امراضِ نسواں و زچگی کے اساتذہ نے فیصلے پر باضابطہ تحفظات ظاہر کرتے ہوئے نظرثانی کا مطالبہ کردیا ہے۔

جے پی ایم سی کے شعبہ امراضِ نسواں و زچگی، وارڈ 8، کے فیکلٹی ممبران نے جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی (جے ایس ایم یو) کے وائس چانسلر کو لکھے گئے خط میں خبردار کیا ہے کہ ڈاکٹر نگہت شاہ کو تین سال کی توسیع دینے سے ترقی کے منتظر حاضر سروس فیکلٹی ممبران کی کیریئر میں پیش رفت متاثر ہونے کے ساتھ میرٹ، سینیارٹی اور طے شدہ ترقیاتی نظام بھی متاثر ہوسکتا ہے۔

11 اگست کو لکھے گئے خط میں فیکلٹی نے یونیورسٹیز اینڈ بورڈز ڈپارٹمنٹ کے 10 اگست کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ شعبے میں متعدد ایسوسی ایٹ پروفیسرز اور دیگر فیکلٹی ممبران سینیارٹی اور مقررہ اہلیت کے معیار کے مطابق ترقی کے منتظر ہیں۔

فیکلٹی ممبران کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی ملازمت میں توسیع عام حالات میں نہیں دی جاتی اور ایسی توسیع عموماً اسی صورت میں زیر غور آتی ہے جب متعلقہ عہدہ سنبھالنے کے لیے کوئی موزوں امیدوار دستیاب نہ ہو۔

یہ اعتراض ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سندھ کابینہ نے ڈاکٹر نگہت شاہ کو 60 سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ کے بعد مزید تین سال کے لیے جے ایس ایم یو میں پروفیسر مقرر کرنے کی ہدایت کی ہے۔

یونیورسٹیز اینڈ بورڈز ڈپارٹمنٹ نے 10 اگست کو وائس چانسلر جے ایس ایم یو کو کابینہ کے فیصلے پر فوری ضروری کارروائی کرتے ہوئے اسے “من و عن اور بلا تاخیر” نافذ کرنے کی ہدایت کی تھی۔ ڈاکٹر نگہت شاہ 12 اگست کو سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہونے والی تھیں۔

فیکلٹی نے خط میں خبردار کیا ہے کہ اگر فیصلے پر عملدرآمد کیا گیا تو اہل فیکلٹی ممبران کی ترقی اور کیریئر میں پیش رفت متاثر ہوسکتی ہے اور میرٹ، سینیارٹی اور پہلے سے طے شدہ ترقیاتی معیار بھی کمزور پڑ سکتا ہے۔

خط کے مطابق فیصلے سے فیکلٹی کے حوصلے اور کارکردگی پر منفی اثر پڑنے کے علاوہ ادارے کے اندر انتظامی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں، جو بالآخر تدریس، تحقیق اور مریضوں کی نگہداشت کو بھی متاثر کرسکتی ہیں۔

فیکلٹی نے وائس چانسلر سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر نگہت شاہ کی توسیع کے معاملے کا وسیع تر عوامی مفاد میں دوبارہ جائزہ لیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ میرٹ، سینیارٹی اور مقررہ ترقیاتی معیار برقرار رہیں۔

معاملے کی حساسیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ فیکلٹی نے احتجاجی خط کی نقول فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیراعلیٰ سندھ، صوبائی محتسب سندھ، وزیر صحت سندھ، صوبائی وزیر یونیورسٹیز اینڈ بورڈز اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر جے پی ایم سی کو بھی ارسال کی ہیں۔

خط پر شعبہ امراضِ نسواں و زچگی کی ایسوسی ایٹ پروفیسرز ڈاکٹر شازیہ نصیب اور ڈاکٹر میمونہ رحمان، اسسٹنٹ پروفیسرز ڈاکٹر شفق اسماعیل، ڈاکٹر امامہ اختر اور ڈاکٹر ماہ رخ حیدر جبکہ سینئر رجسٹرار ڈاکٹر سائرہ شیخ کے نام اور دستخط موجود ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے 19 مئی 2026 کے نوٹیفکیشن کے ذریعے سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل اداروں کو ریٹائرڈ فیکلٹی ممبران کو 65 سال کی عمر تک کنٹریکٹ پر رکھنے کی اجازت دی تھی، تاہم اس میں یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ ایسی تقرری سے جونیئر فیکلٹی کی ترقی، کیریئر میں پیش رفت یا کیڈر اسٹرکچر متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

اسی تناظر میں جے پی ایم سی فیکلٹی کے اعتراض نے یہ سوال کھڑا کردیا ہے کہ اگر ڈاکٹر نگہت شاہ کو مزید تین سال کے لیے برقرار رکھا جاتا ہے تو پہلے سے ترقی کے منتظر حاضر سروس فیکلٹی ممبران کی سینیارٹی، ترقی اور کیریئر کے حقوق کا تحفظ کس طرح کیا جائے گا۔

سندھ کابینہ کی جانب سے توسیع کے فیصلے پر فوری عملدرآمد کی ہدایت اور اب متعلقہ شعبے کی فیکلٹی کے باضابطہ اعتراض کے بعد ڈاکٹر نگہت شاہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد تقرری کا معاملہ جے ایس ایم یو اور جے پی ایم سی میں میرٹ، سینیارٹی اور ترقی کے مواقع کے حوالے سے ایک نیا تنازع بن گیا ہے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں