ڈاکٹروں کے غیر ذمہ دارانہ نسخے، اینٹی بایوٹک کا بے جا استعمال اتائیت کی بدترین مثال ہیں ، فارماسسٹس ایسوسی ایشن کا الزام

اسلام آباد: پاکستان میں اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس (اے ایم آر) کا بڑھتا ہوا بحران ڈاکٹروں کے غیر محتاط اور غیر سائنسی نسخوں کے باعث شدت اختیار کر رہا ہے، جن میں اینٹی بایوٹکس کا بے جا استعمال اور نیوٹراسیوٹیکلز کی بڑی تعداد شامل ہوتی ہے، یہ حرکتیں اتائیت کی بدترین مثال ہیں۔

وزارتِ قومی صحت کو لکھے گئے ایک سخت الفاظ پر مبنی خط میں پاکستان فارماسسٹس ایسوسی ایشن (پی پی اے)
نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ملک میں تقریباً نصف نسخوں میں نیوٹراسیوٹیکلز شامل کیے جا رہے ہیں، حالانکہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) اس حوالے سے بارہا خبردار کر چکی ہے۔

فارما سسٹ ایسوسی ایشن کے مطابق اینٹی بایوٹکس کا بے دریغ استعمال اے ایم آر جیسے سنگین عوامی صحت کے مسئلے کو مزید بڑھا رہا ہے۔

پی پی اے نے یہ الزامات پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی)
کی جانب سے وزارت صحت کو لکھے گئے ایک خط کے جواب میں لگائے ہیں ۔

پی ایم ڈی سی نے 21 اپریل 2026 کو وزارتِ صحت کو ایک مراسلہ ارسال کیا تھا جس میں الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز، بشمول فارماسسٹس، کو ادویات تجویز کرنے یا کلینیکل پریکٹس سے روکنے کی سفارش کی گئی، اور کہا گیا کہ یہ اختیار صرف ڈاکٹروں اور ڈینٹسٹس کے پاس ہونا چاہیے۔

فارماسسٹس نے اس اقدام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ ڈاکٹروں کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ نسخے لکھنا ہے، جس پر مؤثر نگرانی کا فقدان ہے۔

ایک سینئر فارماسسٹ نے کہا کہ مسئلہ فارماسسٹس کی پریکٹس نہیں بلکہ ڈاکٹروں کے غیر معیاری نسخے ہیں جو بلا روک ٹوک جاری ہیں اور مریضوں کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔

پی پی اے کے مطابق ادویات کی خریداری، فراہمی، استعمال اور مانیٹرنگ جیسے بنیادی امور قانونی طور پر فارماسسٹس کے دائرہ کار میں آتے ہیں، تاہم عملاً یہ کام اکثر ڈاکٹر انجام دے رہے ہیں، جس سے پیشہ ورانہ حدود اور جوابدہی پر سوالات اٹھتے ہیں۔

ایسوسی ایشن نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان میں فارمیسی پریکٹس کو فارمیسی ایکٹ 1967 اور ڈریپ ایکٹ 2012 کے تحت واضح طور پر ریگولیٹ کیا گیا ہے، اور پی ایم ڈی سی کی جانب سے فارماسسٹس کے دائرہ اختیار میں مداخلت نہ صرف قانونی طور پر غلط ہے بلکہ ادارہ جاتی ابہام بھی پیدا کرے گی۔

فارماسسٹس نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات ایک ایسے نظام کو مزید کمزور کر سکتے ہیں جہاں پہلے ہی اینٹی بایوٹکس کی اوور دی کاؤنٹر فروخت، پولی فارمیسی اور کلینیکل نگرانی کی کمی جیسے مسائل موجود ہیں، جو منشیات کے خلاف مزاحمت کو بڑھا رہے ہیں۔

پی پی اے نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ فارماسسٹس کو الائیڈ یا ماتحت عملہ قرار دیا جا رہا ہے، حالانکہ وہ ادویات کے ماہرین کے طور پر مریضوں کی نگہداشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، خصوصاً کلینیکل فارمیسی سروسز کے ذریعے۔

ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ اس طرح کی درجہ بندی نہ صرف فارماسسٹس کی پیشہ ورانہ حیثیت کو کمزور کرتی ہے بلکہ صحت کے نظام کی صلاحیت کو بھی متاثر کرتی ہے کہ وہ ادویات کے محفوظ اور مؤثر استعمال کو یقینی بنا سکے۔

پی پی اے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ 21 اپریل کے مراسلے کو موجودہ شکل میں واپس لیا جائے، اس میں وضاحت جاری کی جائے کہ فارماسسٹس اس کے دائرہ کار میں شامل نہیں، اور آئندہ پالیسی سازی تمام متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد کی جائے۔

دوسری جانب پی ایم ڈی سی حکام کا مؤقف ہے کہ غیر مجاز افراد کی جانب سے کلینیکل پریکٹس مریضوں کے لیے خطرناک ہے اور اسے روکنا ضروری ہے، جس سے دونوں فریقین کے درمیان اختلافات مزید واضح ہو گئے ہیں۔

موجودہ تنازع پاکستان کے صحت کے نظام میں موجود گورننس کے بڑے مسائل کی عکاسی کرتا ہے، جہاں کمزور نفاذ، بکھرا ہوا ریگولیٹری نظام اور احتساب کا فقدان مریضوں کی حفاظت کو متاثر کر رہا ہے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں