لاہور: پاکستان نے جگر کی پیوند کاری کے شعبے میں ایک تاریخی سنگ میل عبور کرتے ہوئے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ اینڈ ریسرچ سینٹر (پی کے ایل آئی) لاہور میں 24 گھنٹوں کے دوران جگر کی 10 پیوند کاریاں انجام دے کر نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا، جن میں نو بچے اور ایک بالغ مریض شامل تھے، جبکہ ماہرین کے مطابق یہ غیرمعمولی کامیابی ایسے ملک میں حاصل کی گئی ہے جہاں مردہ عطیہ دہندگان کے ذریعے اعضا کی پیوند کاری کا باقاعدہ نظام تاحال موجود نہیں۔
یہ پیچیدہ پیوند کاریاں مئی 2026 میں پی کے ایل آئی کے ڈین اور معروف ٹرانسپلانٹ سرجن پروفیسر ڈاکٹر فیصل سعود ڈار کی سربراہی میں انجام دی گئیں۔ انہوں نے بدھ کو لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ان میں متعدد انتہائی پیچیدہ ڈومینو آکزیلری پیڈیاٹرک لیور ٹرانسپلانٹس بھی شامل تھے، جو نایاب موروثی میٹابولک بیماریوں میں مبتلا بچوں پر کیے گئے۔
ڈاکٹر فیصل سعود ڈار کے مطابق جگر کی پیوند کاری حاصل کرنے والے نو بچوں میں سب سے کم عمر مریض صرف آٹھ ماہ کا تھا جبکہ باقی بچے پنجاب اور خیبرپختونخوا سے تعلق رکھتے تھے اور جگر سے متعلق چار مختلف موروثی میٹابولک بیماریوں کا شکار تھے۔
انہوں نے بتایا کہ بعض بچوں کے جگر ساختی طور پر صحت مند تھے لیکن ان میں جینیاتی نقائص موجود تھے۔ بعض مریضوں میں ایسی بیماریاں تھیں جن کے باعث خون میں کولیسٹرول کی سطح غیرمعمولی طور پر بلند ہو جاتی تھی۔ ان بچوں کے جگر کے بعض حصے دوسرے مریضوں میں منتقل کیے گئے، جس سے ایک ہی عطیہ کردہ عضو سے ایک سے زیادہ مریضوں کو فائدہ پہنچایا گیا۔
ان کے بقول 24 گھنٹوں کے اندر جگر کی 10 پیوند کاریاں انجام دینا کئی ماہ کی منصوبہ بندی، متعدد سرجیکل ٹیموں، ماہرین بے ہوشی، ہیپاٹولوجسٹس، آئی سی یو اسپیشلسٹس، نرسوں اور دیگر طبی عملے کی شبانہ روز محنت کا نتیجہ تھا۔
ڈاکٹر فیصل سعود ڈار نے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق ایک ہی دن میں جگر کی 10 پیوند کاریاں انجام دینے کا یہ کارنامہ عالمی ریکارڈ ہے اور اس حوالے سے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں اندراج کیلئے دستاویزات تیار کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پی کے ایل آئی گزشتہ پانچ برسوں کے دوران تقریباً ایک ہزار 170 جگر اور ایک ہزار 250 گردوں کی پیوند کاریاں انجام دے چکا ہے، جس کے بعد یہ ادارہ خطے کے مصروف ترین ٹرانسپلانٹ مراکز میں شمار ہوتا ہے۔
ڈاکٹر فیصل سعود ڈار کے مطابق پنجاب کے رہائشیوں کیلئے جگر اور گردوں کی پیوند کاری مکمل طور پر مفت فراہم کی جاتی ہے جبکہ صرف 14 فیصد مریض ایسے ہیں جو اپنی جیب سے علاج کے اخراجات برداشت کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بچوں میں بیک وقت متعدد ڈومینو آکزیلری جگر کی پیوند کاریوں کی کامیاب تکمیل ایک غیرمعمولی طبی کامیابی ہے کیونکہ یہ دنیا کے چند منتخب مراکز میں انجام دیے جانے والے پیچیدہ ترین آپریشنز میں شمار ہوتے ہیں۔
اس موقع پر پنجاب کے وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن بھی موجود تھے جبکہ پی کے ایل آئی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر سعید اختر نے اس کامیابی کو پاکستان کے صحت کے نظام کیلئے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایسے ملک میں ایک بڑی پیش رفت ہے جہاں مردہ عطیہ دہندگان کے ذریعے اعضا کی پیوند کاری کا پروگرام نہ ہونے کے برابر ہے اور زیادہ تر پیوند کاریاں زندہ عطیہ دہندگان کی مدد سے کی جاتی ہیں۔
پروفیسر سعید اختر نے اعلان کیا کہ پی کے ایل آئی میں دل اور پھیپھڑوں کی پیوند کاری کیلئے خصوصی مرکز قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ دل، پھیپھڑوں اور لبلبے کی پیوند کاری مردہ عطیہ دہندگان کے بغیر ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک مردہ عطیہ دہندہ آٹھ افراد کی جان بچا سکتا ہے جبکہ اس کے ٹشوز کئی مزید مریضوں کی زندگی بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دماغی موت کے بعد اعضا عطیہ کرنے کی قانونی اجازت موجود ہے لیکن اب بھی بہت کم خاندان اپنے عزیزوں کے اعضا عطیہ کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں، جس کے باعث ہر سال متعدد قیمتی اعضا ضائع ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کو دل، پھیپھڑوں اور لبلبے کی پیوند کاری سمیت جدید ٹرانسپلانٹ پروگراموں کو فروغ دینا ہے تو مردہ عطیہ دہندگان کے حوالے سے عوامی شعور اور اعتماد میں اضافہ ناگزیر ہے۔
تاہم پی کے ایل آئی میں 24 گھنٹوں کے دوران جگر کی 10 پیوند کاریوں کی کامیاب تکمیل پاکستان کی طبی تاریخ کی ایک غیرمعمولی کامیابی اور ملکی ٹرانسپلانٹ سرجنز کی صلاحیتوں کا واضح ثبوت قرار دی جا رہی ہے-