کراچی: سندھ میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ نے خطرناک صورتحال اختیار کر لی ہے۔ جنوری 2025 سے مارچ 2026 تک کے عرصے میں صوبے بھر میں پندرہ سو پندرہ بچے اس موذی وائرس کا شکار پائے گئے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ہر ماہ اوسطاً 101 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہو رہی ہے۔ یہ اعداد و شمار صوبے میں صحت کے غیر محفوظ طریقوں اور وائرس کی بلاتعطل منتقلی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
وفاقی ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق متاثرہ ایک 15 سو 15 بچوں میں 923 لڑکے اور 592 لڑکیاں شامل ہیں۔
سال میں ایک ہزار 186 کیسز رپورٹ ہوئے۔
رواں برس پہلی سہ ماہی میں مزید 329 کیسز سامنے آئے۔
ماہرین صحت کے مطابق پاکستان بھر میں بچوں کے رپورٹ ہونے والے کل کیسز میں سے 70 فیصد سے زائد صرف سندھ سے ہیں، جو اس صوبے کو بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کا مرکز (ایپی سینٹر) ظاہر کرتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کوئی وقتی وبا نہیں بلکہ مسلسل منتقلی کا عمل ہے۔ وفاقی وزارتِ صحت کے حکام کے مطابق ماہانہ 100 بچوں کا متاثر ہونا اس بات کی علامت ہے کہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال، غیر محفوظ انتقالِ خون اور نجی کلینکس میں جراثیم کشی کے ناقص انتظامات بدستور جاری ہیں۔
خاص طور پر لاڑکانہ، قمبر شہدادکوٹ اور ملحقہ اضلاع ‘ہائی رسک زون’ قرار دیے گئے ہیں جہاں 2019 کے رتوڈیرو واقعے کے بعد بھی طبی ضوابط پر سختی سے عمل درآمد نہیں کروایا جا سکا ہے۔
وفاقی ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں 2025 کے دوران 418 کیسز سامنے آئے، تاہم 2026 کے ابتدائی مہینوں کا ڈیٹا تاحال موصول نہیں ہوا۔ خیبر پختونخوا میں 111، بلوچستان میں 38 اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 22 کیسز ریکارڈ کیے گئے۔
عوامی صحت کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جب تک صوبائی حکومت عطائیوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور انجکشن کی حفاظت (Injection Safety) کے عالمی معیارات کو یقینی نہیں بناتی، اس وقت تک معصوم بچوں کو اس جان لیوا مرض سے بچانا ناممکن ہوگا۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ وبا عام آبادی میں مستقل طور پر جڑ پکڑ لے گی۔