اسلام آباد: ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جوس کے استعمال سے اموات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں اس حوالے سے کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
جاری کیے گئے وضاحتی اعلامیے کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس، ڈائریکٹوریٹ آف ہیلتھ سروسز اور ضلعی انتظامیہ نے مشترکہ طور پر ان واقعات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ تحقیقات کے دوران متعلقہ ہسپتالوں سے مریضوں کا ریکارڈ اور میڈیکل ہسٹری چیک کی گئی۔
حکام کے مطابق ایک مریض پہلے ہی سینے میں درد اور قے جیسی علامات میں مبتلا تھا اور جوس بعد میں استعمال کیا گیا، جبکہ دوسرے مریض میں جوس کے استعمال کی کوئی ہسٹری موجود نہیں تھی۔ ایک اور کیس میں بھی علامات سامنے آئیں، تاہم مضر جوس کے استعمال کا کوئی واضح ثبوت نہیں ملا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مزید تحقیقات کے لیے متاثرہ خاندانوں سے دکانوں کی نشاندہی کی درخواست کی گئی، مگر کوئی مخصوص مقام سامنے نہیں آیا۔ احتیاطی اقدامات کے تحت اسلام آباد فوڈ اتھارٹی نے مختلف مارکیٹوں کا معائنہ بھی کیا، تاہم کہیں سے بھی غیر معیاری یا مضر جوس کے شواہد نہیں ملے۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں پر یقین نہ کریں اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ کسی بھی مشکوک صورتحال کی صورت میں متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔