اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی صورتحال تشویشناک شکل اختیار کرتی جا رہی ہے اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2025 سے مارچ 2026 کے دوران کم از کم 618 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ شہر میں ہر ماہ اوسطاً 41 سے زائد افراد اس مہلک وائرس کا شکار ہو رہے ہیں، متاثرین میں واضح اکثریت نوجوان مردوں کی ہے۔
وفاقی حکام کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2025 میں 40، فروری میں 43، مارچ میں 41، اپریل میں 39، مئی میں 36، جون میں 31، جولائی میں سب سے زیادہ 63، اگست میں 45، ستمبر میں 52، اکتوبر میں 36، نومبر میں 41 اور دسمبر میں 31 کیسز رپورٹ ہوئے۔ اسی طرح 2026 کے ابتدائی تین ماہ میں جنوری میں 41، فروری میں 39 اور مارچ میں 40 نئے کیسز سامنے آئے، جس سے مجموعی تعداد 618 تک پہنچ گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2025 میں سب سے زیادہ 63 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ جون اور دسمبر 2025 میں سب سے کم 31، 31 کیسز سامنے آئے۔ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ ایچ آئی وی اب کسی ایک علاقے یا مخصوص گروہ تک محدود نہیں رہا بلکہ ہر ماہ درجنوں نئے کیسز کے ساتھ ایک مسلسل شہری مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
متاثرہ 618 افراد میں سے 397 بالغ مرد ہیں جو مجموعی تعداد کا 64 فیصد سے زائد بنتے ہیں۔ بالغ خواتین کے 106 کیسز جبکہ93 خواجہ سرا متاثر ہوئے ہیں۔ بچوں میں بھی وائرس کی موجودگی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے جہاں 14 لڑکوں اور 8 لڑکیوں سمیت مجموعی طور پر 22 بچے متاثر ہوئے ہیں۔
سال 2025 کے دوران اسلام آباد میں 498 نئے کیسز سامنے آئے جبکہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں مزید 120 کیسز رپورٹ ہوئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئے کیسز کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔
پمز اسپتال کے ایک سینئر ڈاکٹر کے مطابق متاثرہ افراد میں بڑی تعداد نوجوان مردوں کی ہے جو منشیات کے استعمال اور غیر محفوظ جنسی رویوں میں ملوث پائے گئے ہیں، خاص طور پر آئس کے زیر اثر تعلقات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق آئس کے استعمال کے بعد ہونے والے جنسی تعلقات طویل، بے قابو اور اکثر غیر محفوظ ہوتے ہیں جس سے وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کو ایسے ابھرتے ہوئے مراکز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ کسی ایک گروہ تک محدود نہیں بلکہ مردوں کے ساتھ جنسی تعلق رکھنے والے مرد، خواجہ سرا سیکس ورکرز، خواتین سیکس ورکرز اور بعض ہیٹرو سیکسوئل افراد بھی اس میں شامل ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ منشیات کے استعمال کے ساتھ جڑے جنسی رویے کنڈوم کے کم استعمال، متعدد پارٹنرز اور خطرناک طرزِ عمل کو فروغ دیتے ہیں، جس سے ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد تقریباً ساڑھے تین لاکھ ہے جبکہ صرف محدود افراد کو اپنی بیماری کا علم ہے، جو وائرس کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ ہے۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو اسلام آباد سمیت دیگر شہری علاقوں میں ایچ آئی وی ایک بڑے عوامی صحت کے بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے تدارک کے لیے فوری آگاہی، تشخیص، علاج اور روک تھام کی حکمت عملی ناگزیر ہے۔