اسلام آباد: خیرپور میں نوزائیدہ بچوں اور دیگر افراد میں سامنے آنے والے ایم پاکس کے کنفرمڈ کیسز اور سات ہلاکتوں کے بعد وفاقی حکومت نے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں اور قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کی ماہرین کی ٹیم آج اسلام آباد سے روانہ ہو کر متاثرہ علاقے کا دورہ کرے گی، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے فوری اور مربوط اقدامات کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
وفاقی وزارت صحت کے حکام کے مطابق این آئی ایچ کے ماہرین پر مشتمل ٹیم، جس میں ماہر وبائیات، لیبارٹری اسپیشلسٹس اور انفیکشن کنٹرول کے ماہرین شامل ہیں، خیرپور میں فیلڈ انویسٹی گیشن کرے گی، نمونے حاصل کرے گی اور بیماری کے پھیلاؤ کی وجوہات کا تعین کرے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں خیرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں مزید 25 سے 30 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ دیگر علاقوں سے بھی کیسز سامنے آنے لگے ہیں۔
ادھر قومی ادارہ صحت کی جانب سے سندھ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو ایک باضابطہ خط بھی ارسال کیا گیا ہے جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ لیبارٹری سے تصدیق شدہ ایم پاکس کیسز ایک ممکنہ وبا کی نشاندہی کرتے ہیں اور اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری، مربوط اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ خط میں خاص طور پر نوزائیدہ بچوں میں کیسز سامنے آنے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے عمودی منتقلی کے خدشے کی نشاندہی کی گئی ہے، جس کے لیے تفصیلی وبائیاتی تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
این آئی ایچ نے سندھ حکومت کو ہدایت کی ہے کہ تمام مشتبہ اور تصدیق شدہ کیسز کے نمونے فوری طور پر قومی ریفرنس لیبارٹری اسلام آباد بھجوائے جائیں تاکہ تصدیقی ٹیسٹنگ، جینومک سیکوینسنگ اور وائرس کی اقسام کے تعین کا عمل مکمل کیا جا سکے۔ ادارے نے اس سلسلے میں مکمل تکنیکی معاونت کی پیشکش بھی کی ہے۔
وفاقی حکام نے صوبوں، خصوصاً سندھ اور پنجاب، کی جانب سے بیماریوں کی بروقت رپورٹنگ نہ ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کیسز کا ڈیٹا فوری طور پر وفاق کے ساتھ شیئر کیا جائے تاکہ قومی سطح پر مربوط حکمت عملی ترتیب دی جا سکے۔ این آئی ایچ نے خبردار کیا ہے کہ صوبائی سطح پر رپورٹنگ میں تاخیر نہ صرف وبا پر قابو پانے کی کوششوں کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔
خط میں واضح کیا گیا ہے کہ بین الاقوامی ہیلتھ ریگولیشنز کے تحت پاکستان پر لازم ہے کہ ایسے کیسز کی بروقت نشاندہی اور عالمی ادارہ صحت کو رپورٹنگ کی جائے، کیونکہ عالمی سطح پر بیماریوں کی نگرانی کے نظام میں درست اور بروقت ڈیٹا کی فراہمی نہایت اہم ہے۔
دوسری جانب صوبائی حکام کے مطابق ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ماہرین بھی خیرپور کا دورہ کر چکے ہیں اور وہاں سے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری تجزیہ شروع کر دیا گیا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کیسز کو دیگر جلدی بیماریوں سے الگ شناخت کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ غلط تشخیص سے بچا جا سکے۔
قومی ادارہ صحت نے صوبائی اور وفاقی سطح پر مشترکہ ردعمل کا نظام قائم کرنے، متاثرہ اضلاع میں نگرانی اور کیس ڈیٹیکشن کو مزید سخت بنانے اور عوامی آگاہی بڑھانے کی بھی ہدایت کی ہے۔ اس کے علاوہ ڈی جی ہیلتھ کی جانب سے ایئرپورٹس پر اسکریننگ سخت کرنے اور نگرانی بڑھانے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر کیسز کو چھپانے یا رپورٹنگ میں تاخیر کا سلسلہ جاری رہا تو وبا خاموشی سے پھیل سکتی ہے، جس سے خاص طور پر بچوں اور کمزور افراد کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔