ملک بھر میں خسرہ کی وبا بے قابو، چار ماہ میں 71 بچے جاں بحق؛ سندھ سب سے زیادہ اموات

​کراچی: ملک بھر میں خسرہ کی وباء نے سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے، جہاں گزشتہ چار ماہ کے دوران اس موذی مرض کے باعث 71 بچے انتقال کر گئے ہیں۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ویکسینیشن میں غفلت اور بیماری کی علامات کو نظر انداز کرنا جانی نقصان میں اضافے کی بڑی وجہ بن رہا ہے۔

​اعداد و شمار کے مطابق اموات کی سب سے زیادہ شرح صوبہ سندھ میں رہی جہاں 40 بچے جاں بحق ہوئے۔
​پنجاب اور خیبرپختونخوا 12، 12 امور رپورٹ ہوئی ہیں،
​بلوچستان میں خسرہ کے باعث 4 بچوں کے انتقال کی تصدیق ہوئی ہے۔
​ملک بھر میں اب تک مجموعی طور پر 4,541 لیبارٹری کنفرم کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں خیبرپختونخوا 1,712 کیسز کے ساتھ سرفہرست ہے، پنجاب میں 1,198 اور سندھ میں 1,183 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔
​طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ خسرہ ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے جو میزلز وائرس کے ذریعے تیزی سے پھیلتی ہے۔
ماہرین نے کہا کہ اگر بچے کو اچانک تیز بخار اور جسم میں شدید دردہو، ​جلد پر باریک سرخ دانوں کا نکلنا جو دیکھتے ہی دیکھتے پورے جسم میں پھیل جائیں،
​بچوں کو الٹیاں اور دست ہوں تو یہ خسرہ کی علامات ہیں
​ماہرین کے مطابق خسرہ کی سب سے خطرناک پیچیدگی نمونیہ ہے اور اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ مرض جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔
​ماہر امراض اطفال ڈاکٹر خالد شفیع کا کہنا ہے کہ فروری سے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خسرہ سے 100 فیصد بچاؤ صرف اور صرف ویکسین کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ ستمبر میں گھر گھر مہم کے دوران بھی والدین سے درخواست کی گئی تھی لیکن ویکسین لگوانے میں ہچکچاہٹ کی وجہ سے حکومت کی جانب سے چلائی جانے والی مہمات بھی مکمل طور پر کارگر ثابت نہیں ہو پا رہیں۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوا کر اس مہلک مرض سے محفوظ رکھیں۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں