کراچی میں ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں ایچ آئی وی اب صرف مخصوص گروہوں تک محدود نہیں رہا بلکہ عام آبادی، خواتین اور بچوں میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے، جہاں تقریباً 39 فیصد کیسز اب جنرل پاپولیشن میں رپورٹ ہو رہے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ایڈز سے متعلق اموات میں 500 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
کراچی پریس کلب میں میڈیکل مائیکروبایولوجی اینڈ انفیکشز ڈیزیز سوسائٹی آف پاکستان (MMIDSP) کے ماہرین نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غیر محفوظ انجیکشنز، آلودہ خون کی منتقلی اور اسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کے ناقص انتظامات اس خطرناک صورتحال کی بڑی وجوہات ہیں۔
ماہرین کے مطابق 2010 سے اب تک پاکستان میں ایچ آئی وی کے مریضوں کی تعداد میں 330 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے اور 2024 تک یہ تعداد تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ایڈز سے اموات میں تقریباً 540 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ بیماری کی تاخیر سے تشخیص اور علاج کی ناکافی سہولیات ہیں۔
انڈس اسپتال کی ماہر ڈاکٹر ثمرین سرفراز نے کہا کہ کراچی کے اسپتالوں میں سامنے آنے والی صورتحال واضح کرتی ہے کہ محفوظ انجیکشنز اور محفوظ خون کی فراہمی انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں میں حالیہ ایچ آئی وی آؤٹ بریکس صحت کے نظام میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ماہرین نے عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں نئے ایچ آئی وی کیسز میں تقریباً 200 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو 2010 میں 16 ہزار سے بڑھ کر 2024 میں 48 ہزار تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ خطے میں رپورٹ ہونے والے تقریباً 55 فیصد کیسز پاکستان میں سامنے آ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سالانہ فی فرد 8 سے 14 انجیکشن لگانے کا رجحان پایا جاتا ہے، جبکہ سرنجز کا دوبارہ استعمال اور غیر رجسٹرڈ کلینکس میں غیر محفوظ طبی طریقے عام ہیں، جو بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن رہے ہیں۔
ماہرین نے رتوڈیرو میں 2019 کے آؤٹ بریک کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایک ہزار سے زائد بچے متاثر ہوئے تھے، جن میں اکثریت کو آلودہ انجیکشنز کے ذریعے وائرس منتقل ہوا۔ حالیہ عرصے میں ملتان کے ایک ڈائیلاسز یونٹ اور کراچی کے سائٹ ایریا میں بھی اسی نوعیت کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جو اسپتالوں میں انفیکشن کے پھیلاؤ پر سوالیہ نشان ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں صرف 21 فیصد ایچ آئی وی مریضوں کی تشخیص ہو پاتی ہے جبکہ محض 16 فیصد علاج حاصل کر رہے ہیں، جس کے باعث بڑی تعداد میں کیسز سامنے نہیں آتے اور بیماری مزید پھیلتی رہتی ہے۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا کہ ناقص انفیکشن کنٹرول کے باعث نہ صرف ایچ آئی وی بلکہ ہیپاٹائٹس بی، سی اور دیگر بیماریوں کا پھیلاؤ بھی بڑھ رہا ہے۔ ساتھ ہی ایم پاکس کے کیسز، خصوصاً بچوں اور نوزائیدہ بچوں میں، سامنے آ رہے ہیں، جن میں بعض کیسز اسپتالوں سے منتقلی کے شواہد ظاہر کرتے ہیں۔
ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ محفوظ انجیکشن کے استعمال کو یقینی بنایا جائے، خون کی اسکریننگ کو لازمی قرار دیا جائے، اور صحت کے نظام میں سخت نگرانی اور اصلاحات نافذ کی جائیں تاکہ ان خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔