کراچی میں ریبیز کا ایک اور کیس رپورٹ، رواں سال سندھ میں چوتھا مریض

کراچی: شہر میں ریبیز کا ایک اور کیس سامنے آ گیا ہے، لیاری کے 75 سالہ رہائشی نعمت گل کو ریبیز کی علامات ظاہر ہونے پر جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔

جے پی ایم سی کے ڈاکٹروں کے مطابق مریض کو تقریباً تین ماہ قبل کتے نے کاٹا تھا، تاہم بروقت ویکسین اور حفاظتی انجیکشن نہ لگنے کے باعث اب اس میں ریبیز کی علامات ظاہر ہو چکی ہیں۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ مریض میں پانی سے خوف (ہائیڈروفوبیا) اور روشنی سے حساسیت (فوٹوفوبیا) جیسی علامات پائی جا رہی ہیں، جو ریبیز کے آخری مراحل کی نشاندہی کرتی ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق مریض کو آئسولیشن میں رکھا گیا ہے اور اسے صرف معاون علاج فراہم کیا جا رہا ہے، کیونکہ علامات ظاہر ہونے کے بعد ریبیز کا کوئی مؤثر علاج موجود نہیں ہوتا۔

محکمہ صحت کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ رواں سال سندھ میں رپورٹ ہونے والا ریبیز کا چوتھا کیس ہے، جبکہ صوبے بھر میں کتے کے کاٹنے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق خاص طور پر شہری علاقوں میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔

طبی ماہرین نے ایک بار پھر شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی جانور کے کاٹنے کی صورت میں فوری طور پر طبی امداد حاصل کی جائے۔ ماہرین کے مطابق زخم کو فوراً صابن اور بہتے پانی سے اچھی طرح دھونا چاہیے اور اس کے بعد ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین اور ضرورت کے مطابق ریبیز امیونوگلوبیولن کا کورس مکمل کرایا جانا چاہیے۔

ماہرین نے خبردار کیا کہ ریبیز کی علامات ظاہر ہونے کے بعد بیماری تقریباً ہمیشہ جان لیوا ثابت ہوتی ہے، اس لیے بروقت اور مکمل پوسٹ ایکسپوژر پروفیلیکسیس ہی اس موذی مرض سے بچاؤ کا واحد مؤثر طریقہ ہے-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے