کراچی میں دو ہفتوں کے دوران آتشزدگی کے 160 واقعات، ماہرین کا تعلیمی نصاب میں فائر سیفٹی کی تربیت شامل کرنے، بلڈنگ قوانین پر سختی سے عمل درآمد اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ
کراچی: ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں رواں سال جن تقریباً 1900 عمارتوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کیا گیا، ان میں سے 70 فیصد سے زائد عمارتیں آگ سے بچاؤ کے مطلوبہ حفاظتی معیار پر پورا اترنے میں ناکام رہیں، جبکہ شہر میں صرف گزشتہ دو ہفتوں کے دوران آتشزدگی کے تقریباً 160 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جس سے ہزاروں شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
یہ تشویشناک اعدادوشمار جمعرات کو فائر پروٹیکشن ایسوسی ایشن آف پاکستان (FPAP) کے زیر اہتمام چوتھی نیشنل فائر سیفٹی کانفرنس اور رسک بیسڈ ایوارڈز 2026 کے موقع پر سامنے آئے، جہاں ماہرین نے عمارتوں میں حفاظتی انتظامات بہتر بنانے، تعلیمی اداروں میں فائر سیفٹی کی تعلیم لازمی قرار دینے اور آتشزدگی کے واقعات کی روک تھام کے لیے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔
ریسکیو 1122 کے چیف آپریٹنگ آفیسر عابد جلال نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ رواں سال جنوری سے اب تک تقریباً 1900 عمارتوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کیا گیا، جن میں سے 70 فیصد سے زائد عمارتوں میں آگ سے بچاؤ کے مطلوبہ انتظامات ناکافی پائے گئے۔
انہوں نے کہا کہ 2016 میں متعارف کرائے گئے بلڈنگ کوڈ پر نظرثانی کی ضرورت ہے، جبکہ فائر سیفٹی کے معیارات، عمارتوں کے معائنے اور قوانین پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایک علیحدہ تکنیکی ادارہ بھی قائم کیا جانا چاہیے۔
عابد جلال کا کہنا تھا کہ ملک میں آتشزدگی کے کئی تباہ کن واقعات پیش آنے کے باوجود بلڈنگ قوانین پر عمل درآمد ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ اداروں کو مل کر ایسا مؤثر نظام قائم کرنا ہوگا جس کے ذریعے حفاظتی قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جاسکے۔
کراچی کے چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے بتایا کہ شہر میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران آتشزدگی کے تقریباً 160 واقعات پیش آئے، جبکہ تنگ سڑکیں، تجاوزات اور آگ لگنے کی اطلاع میں تاخیر امدادی کارروائیوں میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔
گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ آگ لگنے کے تقریباً 26 منٹ بعد سینٹرل فائر اسٹیشن کو اطلاع موصول ہوئی، حالانکہ آگ لگنے کے ابتدائی لمحات کی ویڈیوز پہلے ہی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھیں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوگ آگ لگنے کی صورت میں فوری طور پر فائر بریگیڈ کو اطلاع دینے کے بجائے موبائل فون نکال کر ویڈیوز بنانے اور انہیں سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے میں مصروف ہوجاتے ہیں، جس کے باعث قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے۔
ہمایوں خان نے بتایا کہ کراچی میں فائر اسٹیشنوں کی تعداد 22 سے بڑھا کر 28 کردی گئی ہے، جبکہ محکمہ فائر بریگیڈ کے پاس آٹھ اسنارکلز اور 52 واٹر باؤزر موجود ہیں۔ انہوں نے اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں آگ بجھانے اور ہنگامی صورتحال میں محفوظ انخلا کی عملی تربیت لازمی قرار دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
فائر پروٹیکشن ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر کنور وسیم نے کہا کہ فائر سیفٹی کا مقصد صرف آگ لگنے کے بعد اسے بجھانا نہیں بلکہ ایسے حادثات کی روک تھام ہونا چاہیے، جس کے لیے عوامی آگاہی، پیشہ ورانہ تربیت، تکنیکی مہارت اور ادارہ جاتی جوابدہی ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت، تعلیمی اداروں، میڈیا اور کاروباری برادری کو مل کر معاشرے میں آگ سے بچاؤ کی ثقافت کو فروغ دینا ہوگا تاکہ شہریوں کو آگ لگنے کے خطرات اور ہنگامی حالات میں اپنی اور دوسروں کی جان بچانے کے بنیادی طریقوں سے آگاہ کیا جاسکے۔
کنور وسیم نے بتایا کہ فائر پروٹیکشن ایسوسی ایشن آف پاکستان نے این ای ڈی یونیورسٹی سے تسلیم شدہ پروفیشنل فائر سیفٹی سرٹیفکیشن کورسز متعارف کرائے ہیں، جبکہ ایسوسی ایشن نے 2016 کے فائر سیفٹی بلڈنگ کوڈز کی تیاری میں بھی کردار ادا کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ تمام عمارتوں میں فائر الارم، اسپرنکلر سسٹم، آگ بجھانے کے آلات اور ہنگامی اخراج کے محفوظ راستوں کی موجودگی یقینی بنائی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق عمارتوں میں کام کرنے والے ملازمین اور وہاں موجود افراد کو عملی تربیت فراہم کرنا بھی ضروری ہے تاکہ کسی حادثے کی صورت میں وہ مکمل طور پر امدادی اداروں کے محتاج نہ رہیں۔
کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر اور معروف صنعت کار جاوید بلوانی نے ملک کے سب سے بڑے صنعتی اور تجارتی مرکز میں آگ بجھانے کے ناکافی انتظامات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کراچی ملک کی مجموعی برآمدات میں تقریباً 54 فیصد اور قومی محصولات میں 67 فیصد حصہ ڈالتا ہے، لیکن اس کے باوجود صنعتی علاقوں، تجارتی مارکیٹوں اور میکلوڈ روڈ جیسے اہم کاروباری مراکز میں آگ بجھانے کے لیے فائر ہائیڈرینٹس کا مناسب نظام موجود نہیں۔
جاوید بلوانی نے کہا کہ حبیب بینک پلازہ کی تعمیر کے وقت عمارت میں فائر ہائیڈرینٹس نصب کیے گئے تھے، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود شہر کے دیگر اہم علاقوں میں اس نوعیت کی بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کی جاسکیں۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے سابق ڈائریکٹر آپریشنز امداد صدیقی نے کہا کہ پاکستان میں آفات سے نمٹنے کے نظام کی دو بڑی خامیاں موجودہ منصوبوں اور پالیسیوں پر عمل درآمد نہ ہونا اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطوں کا فقدان ہیں۔
انہوں نے اپریل 2022 میں ضلع دادو کے ایک گاؤں میں پیش آنے والے آتشزدگی کے المناک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک گھر میں چولہے سے لگنے والی آگ تیز ہواؤں کے باعث پھیل گئی۔ ایک ماں نے اپنے بچوں کو آگ سے بچانے کے لیے کمرے میں بند کردیا، لیکن شعلوں نے کمرے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور بچے زندہ جل گئے۔
امداد صدیقی نے بتایا کہ جب حکام متاثرہ خاندان کو مالی امداد کے چیک دینے پہنچے تو غمزدہ والدین نے چیک واپس پھینک دیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے سانحات میں ہونے والے جانی نقصان کا ازالہ کسی مالی امداد سے ممکن نہیں، اس لیے تمام تر توجہ حادثات کی روک تھام پر ہونی چاہیے۔
حسین حبیب کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فواد باری نے کہا کہ بچوں کو ابتدائی عمر سے ہی آگ لگنے کی صورت میں محفوظ رہنے اور دوسروں کی مدد کرنے کی تربیت دی جانی چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ امریکہ میں کئی دہائیوں سے بچوں کو اسکولوں میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی عملی تربیت دی جاتی ہے، جبکہ پاکستان میں بیشتر افراد کو یہ بھی معلوم نہیں کہ کپڑوں میں آگ لگنے، کچن میں تیل بھڑک اٹھنے یا بجلی کی تاروں میں آگ لگنے کی صورت میں کیا کرنا چاہیے۔
فواد باری نے خبردار کیا کہ جلتے ہوئے تیل یا بجلی سے لگنے والی آگ پر پانی ڈالنا خطرناک ہوسکتا ہے۔ انہوں نے مناسب آگ بجھانے والے آلات کے استعمال اور محفوظ ہونے کی صورت میں بجلی کی سپلائی منقطع کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
کانفرنس میں پی ڈی ایم اے سندھ کے ڈائریکٹر جنرل سلمان شاہ، پاکستان ریڈ کریسنٹ کے چیئرمین ریحان ہاشمی، فائر سیفٹی کے ماہرین، انجینئرز اور دیگر متعلقہ شعبوں کے نمائندوں نے شرکت کی، جبکہ سنگاپور اور برطانیہ سے بین الاقوامی ماہرین بھی آن لائن شریک ہوئے۔
مقررین نے گل پلازہ اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں آتشزدگی کے سانحات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان واقعات سے سبق سیکھنے اور حفاظتی انتظامات بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
کانفرنس کے شرکا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فائر سیفٹی کی تعلیم نصاب کا لازمی حصہ بنائی جائے، عمارتوں اور صنعتی اداروں کے حفاظتی انتظامات کا باقاعدگی سے معائنہ کیا جائے، ہنگامی انخلا کی عملی مشقیں کرائی جائیں اور حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے عمارتوں کے مالکان کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ جب تک آگ سے بچاؤ کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد اور عوام میں حفاظتی شعور پیدا نہیں کیا جاتا، آتشزدگی کے قابلِ روک تھام واقعات میں قیمتی انسانی جانوں اور املاک کا نقصان ہوتا رہے گا۔