پاکستان میں ہارٹ ٹرانسپلانٹ نہ ہونے کی وجہ سرجنز کی نہیں، ڈونرز کی کمی ہے، معروف برطانوی پاکستانی ہارٹ سرجن کا ڈاکٹر آصف حسن وائٹلز نیوز کو خصوصی انٹرویو

کراچی: برطانیہ میں پیڈیاٹرک کارڈیک سرجری اور ہارٹ ٹرانسپلانٹ کے شعبے میں تین دہائیوں سے زائد خدمات انجام دینے والے پاکستانی نژاد ہارٹ ٹرانسپلانٹ سرجن ڈاکٹر آصف حسن نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہارٹ ٹرانسپلانٹ کے فروغ میں سب سے بڑی ضرورت اعضاء عطیہ کرنے کے حوالے سے عوامی آگاہی اور مؤثر ڈونر کوآرڈینیشن سسٹم کی ہے۔ ایران، بھارت اور سعودی عرب سمیت پاکستان کے کئی ہمسایہ ممالک میں اعضاء کی پیوندکاری ہو رہی ہے تو پاکستان میں بھی ہارٹ ٹرانسپلانٹ کیوں نہیں ہوسکتا؟

طبی مہارت نہیں، ڈونرز کی دستیابی بنیادی چیلنج ہے

وائٹلز نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ڈاکٹر آصف حسن نے کہا کہ پاکستان میں ہارٹ ٹرانسپلانٹ کے حوالے سے بنیادی مسئلہ طبی مہارت یا سرجنز کی صلاحیت نہیں بلکہ اعضاء عطیہ کرنے کے لیے ڈونرز کی دستیابی اور اس حوالے سے عوامی شعور پیدا کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں کڈنی ٹرانسپلانٹ کا انتہائی مؤثر پروگرام موجود ہے جبکہ سعودی عرب اور بھارت میں بھی ٹرانسپلانٹ کی سہولیات دستیاب ہیں، اس لیے پاکستان کو بھی اس شعبے میں پیش رفت کرنی چاہیے۔

ہر اسپتال میں ڈونر کوآرڈینیٹر تعینات کرنے کی تجویز

ڈاکٹر آصف حسن نے اسپین کے نظام کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں اعضا عطیہ کرنے کے حوالے سے اسپین ایک نمایاں ملک ہے۔ وہاں تقریباً 15 سال قبل ہر اسپتال میں ڈونر کوآرڈینیٹر تعینات کرنے کا نظام متعارف کرایا گیا۔ یہ کوآرڈینیٹر کسی بھی پیشہ ورانہ پس منظر سے تعلق رکھ سکتا ہے، تاہم اسے خصوصی تربیت دی جاتی ہے تاکہ کسی مریض کے انتقال کی صورت میں لواحقین سے اعضا عطیہ کرنے کے حوالے سے مناسب انداز میں بات کرسکے اور انہیں اس عمل کی اہمیت سے آگاہ کرسکے۔

پاکستان کے ہر اسپتال میں تربیت یافتہ ڈونر کوآرڈینیٹرز تعینات کیے جائیں

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بھی ہر اسپتال میں تربیت یافتہ ڈونر کوآرڈینیٹرز تعینات کیے جانے چاہئیں۔ ان کوآرڈینیٹرز کی ذمہ داری ہونی چاہیے کہ وہ انتقال کے بعد لواحقین سے اعضا عطیہ کرنے کے بارے میں بات کریں، انہیں قانونی طریقہ کار اور اس کے انسانی فوائد سے آگاہ کریں۔ اس مقصد کے لیے عوامی آگاہی کی باقاعدہ مہم بھی چلانے کی ضرورت ہے۔

قانون موجود، عوامی شعور اور ڈونر شناخت کا نظام بہتر بنانے کی ضرورت

ڈاکٹر آصف حسن نے کہا کہ پاکستان میں اعضاء عطیہ کرنے سے متعلق قانون سازی بھی موجود ہے، اس لیے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ عوامی شعور اور اسپتالوں میں ڈونر کی شناخت اور رابطے کا نظام بہتر بنایا جائے۔ ان کے بقول اگر معروف معالج ڈاکٹر ادیب رضوی نے تقریباً 20 برس میں 15 کیڈاورک ڈونرز حاصل کیے ہیں تو اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں اعضاء عطیہ کرنے کے لیے رضامندی حاصل کرنا کتنا مشکل کام ہے۔

پاکستانی ڈاکٹرز برطانیہ کے معیار کے مطابق سرجری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں

پاکستان اور برطانیہ میں بچوں کے دل کے علاج اور سرجری کے معیار کا موازنہ کرتے ہوئے ڈاکٹر آصف حسن نے کہا کہ پاکستان میں موجود تربیت یافتہ ڈاکٹرز اور سرجنز اگر برطانیہ میں کام کریں تو وہاں کے طبی معیار کے مطابق خدمات انجام دے سکتے ہیں، بلکہ پاکستانی ڈاکٹرز ایسا کر بھی چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مسئلہ صرف سرجن کی مہارت کا نہیں بلکہ علاج سے منسلک دیگر طبی سہولیات اور معاون شعبوں کا بھی ہے۔ خون کی منتقلی، انفیکشن کنٹرول، نرسنگ کی تربیت اور نرسوں کو ان کے پیشہ ورانہ مقام کے مطابق عزت اور اہمیت دینا ضروری ہے۔

ہارٹ سرجری کی کامیابی کے لیے مکمل طبی ٹیم اور مربوط نظام ضروری

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی پیچیدہ سرجری کی کامیابی صرف سرجن پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ ڈاکٹرز، نرسز، بلڈ بینک، اینستھیزیا اور دیگر طبی عملے سمیت پوری ٹیم ایک مربوط نظام کے تحت کام کرتی ہے۔ ہر فرد کی اپنی اہمیت ہے اور کسی ایک شعبے کی کمزوری پورے علاج کے معیار کو متاثر کرسکتی ہے۔

پاکستانی ڈاکٹر منیر کے ساتھ تین پیڈیاٹرک ہارٹ ٹرانسپلانٹ کیے

ڈاکٹر آصف حسن نے بتایا کہ پاکستانی ڈاکٹر منیر نے ان کے ساتھ تین پیڈیاٹرک ہارٹ ٹرانسپلانٹ کیے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی معالجین میں اس پیچیدہ شعبے میں کام کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ان کے مطابق ٹرانسپلانٹ کے لیے صرف سرجن نہیں بلکہ ایک مکمل تربیت یافتہ طبی ٹیم اور معاون نظام درکار ہوتا ہے۔

پاکستان میں کڈنی ٹرانسپلانٹ ہو رہے ہیں تو ہارٹ ٹرانسپلانٹ بھی ممکن ہونا چاہیے

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کڈنی ٹرانسپلانٹ ہو رہے ہیں تو ہارٹ ٹرانسپلانٹ کے حوالے سے بھی پیش رفت ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل کے بارے میں کوئی حتمی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی، تاہم جدید طبی سہولیات اور مربوط نظام کے ذریعے اس شعبے میں بہتری کے امکانات موجود ہیں۔

والدین کی قربانیوں نے ڈاکٹر بننے اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ دیا

ڈاکٹر آصف حسن نے اپنے طبی سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والدین ہجرت کرکے لاہور پہنچے تھے اور ان کی قربانیوں کا مقصد بچوں کو تعلیم دلانا اور انہیں ڈاکٹر بنانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ والدین کی خواہش تھی کہ ان کے بچے زندگی میں کچھ ایسا کریں جس سے دوسروں کو فائدہ پہنچے۔

چار ہزار سے زائد اوپن ہارٹ آپریشنز اور پرائیڈ آف برطانیہ لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ

واضح رہے کہ پاکستانی نژاد سرجن ڈاکٹر آصف حسن کو برطانیہ میں بچوں کی پیچیدہ دل کی سرجری اور علاج کے شعبے میں تین دہائیوں سے زائد خدمات کے اعتراف میں پرائیڈ آف برطانیہ لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ انہوں نے نیو کیسل کے فری مین اسپتال میں اپنے کیریئر کے دوران 4 ہزار سے زائد اوپن ہارٹ آپریشنز کیے اور پیڈیاٹرک ہارٹ سرجری، ہارٹ ٹرانسپلانٹیشن اور سرجنز کی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔

ایس آئی یو ٹی میں ڈاکٹر آصف حسن کے اعزاز میں تقریب

ڈاکٹر آصف حسن کے اعزاز میں کراچی کے سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں تقریب منعقد کی گئی جس میں معروف معالج ڈاکٹر ادیب رضوی اور طبی برادری کے دیگر ارکان نے شرکت کی۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں