جناح اسپتال کراچی میں ریبیز سے ایک اور بچہ جاں بحق، رواں سال اموات کی تعداد 41 ہوگئی

کراچی: کتوں کے کاٹنے سے پھیلنے والی مہلک بیماری ریبیز کے باعث 12 سالہ بچہ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) میں انتقال کرگیا۔ بلوچستان کے علاقے جھل مگسی سے تعلق رکھنے والے بچے کی موت کے بعد رواں سال جے پی ایم سی اور انڈس اسپتال میں رپورٹ ہونے والی ریبیز سے اموات کی مجموعی تعداد 41 ہوگئی ہے۔

اسپتال حکام کے مطابق بچے کی شناخت صاحب ولد علی حسن کے نام سے ہوئی ہے۔ اسے یکم نومبر 2026 کو رات 7 بج کر 43 منٹ پر جے پی ایم سی کے ایمرجنسی لایا گیا تھا۔ بچے کو تیز بخار، پانی سے خوف، چڑچڑاپن اور شعور کی حالت میں تبدیلی کی شکایت تھی۔

طبی رپورٹ کے مطابق بچے کو تقریباً ایک ماہ قبل بائیں آنکھ کے قریب کتے نے کاٹا تھا۔ اسے ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین کی دو خوراکیں لگائی گئی تھیں، تاہم ریبیز امیونوگلوبیولن (RIG) نہیں دیا گیا تھا۔

اسپتال حکام کے مطابق جب بچے کو اسپتال گیا تو اس میں ریبیز کی واضح علامات موجود تھیں، تاہم اسے تیز بخار اور غنودگی طاری تھی۔ںچے کے طبی معائنے کے لیے نیورو میڈیسن ٹیم کو بھی طلب کیا گیا، جس کے بعد طبی طور پر اسے ریبیز انسیفلائٹس کا مریض قرار دے کر علاج شروع کیا گیا۔ تاہم بچہ بدھ چار نومبر کو شام 5 بجے دم توڑ گیا۔

جناح اور انڈس اسپتال کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق رواں سال جے پی ایم سی میں ریبیز سے 12 جبکہ انڈس اسپتال میں 29 اموات رپورٹ ہوئی تھیں۔ تازہ کیس کے بعد دونوں اسپتالوں میں اموات کی مجموعی تعداد 41 ہوگئی ہے۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں رواں سال کتوں کے کاٹنے کے پچاس ہزار سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ سندھ بھر میں یہ تعداد ڈھائی لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ جے پی ایم سی میں تقریباً 14 ہزار اور انڈس اسپتال میں 19 ہزار کے قریب افراد کتے کے کاٹنے کے بعد طبی امداد کے لیے پہنچے۔

طبی ماہرین کے مطابق ریبیز ایک مہلک مگر قابلِ بچاؤ بیماری ہے۔ کتے یا کسی مشتبہ جانور کے کاٹنے کی صورت میں زخم کو فوری طور پر صابن اور بہتے پانی سے کم از کم 15 منٹ تک دھونا اور بلا تاخیر اسپتال پہنچنا ضروری ہے۔ ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق ویکسین اور ریبیز امیونوگلوبیولن کا استعمال بھی اہم ہے۔ علامات ظاہر ہونے کے بعد یہ بیماری عموماً جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں