پاکستان میں پولیو کا نواں کیس، افغانستان سے وائرس کے جینیاتی روابط کی تصدیق

خیبر سے سات ماہ کے بچے میں پولیو کی تصدیق، صوبے میں کیسز کی تعداد سات ہوگئی، سرحد پار وائرس کی گردش پاکستان میں انسداد پولیو کی کوششوں کے لیے بڑا چیلنج بن گئی

اسلام آباد: پاکستان میں رواں سال پولیو کا نواں کیس خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر سے رپورٹ ہوا ہے، جہاں سات ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق کے بعد افغانستان سے وائرس کے جینیاتی روابط بھی سامنے آئے ہیں۔

نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر برائے انسداد پولیو کے مطابق متاثرہ بچے کا تعلق ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کی یونین کونسل مستک سے ہے۔ یہ رواں سال ضلع خیبر سے پولیو کا تیسرا جبکہ خیبرپختونخوا سے ساتواں کیس ہے، جبکہ سندھ سے دو کیس رپورٹ ہوچکے ہیں۔

حکام کے مطابق ضلع خیبر سے رواں سال رپورٹ ہونے والے تینوں پولیو کیسز میں پائے جانے والے وائرس کے جینیاتی روابط افغانستان میں گردش کرنے والے پولیو وائرس سے ملتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان پولیو وائرس کی سرحد پار منتقلی بدستور ایک سنگین مسئلہ ہے۔

پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ دو ممالک ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس کی مقامی سطح پر منتقلی کا سلسلہ ابھی تک مکمل طور پر نہیں روکا جاسکا۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل اور غیرمحفوظ سرحد، آبادی کی نقل و حرکت، بچوں کی ویکسینیشن میں رہ جانے والے خلا اور بعض علاقوں تک محدود رسائی پولیو کے خاتمے کی کوششوں کو متاثر کر رہی ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان پولیو وائرس کی مسلسل منتقلی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے دونوں ممالک کو پولیو کے حوالے سے ایک ہی وبائی خطہ قرار دیا ہے۔ ادارے کے مطابق جنوبی افغانستان اور پاکستان کے جنوبی خیبرپختونخوا کے علاوہ مشرقی افغانستان اور پشاور کے درمیان آبادی کی نقل و حرکت وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ برقرار رکھتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی اگست 2026 میں جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے جنوبی علاقوں میں پولیو وائرس کی مسلسل گردش ایک بڑا مسئلہ ہے، جبکہ پاکستان کے جنوبی خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال، بعض علاقوں تک محدود رسائی اور ویکسینیشن سے محروم بچوں کی موجودگی انسداد پولیو مہمات کی کامیابی میں رکاوٹ بن رہی ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ جنوبی خیبرپختونخوا میں تقریباً ڈھائی لاکھ بچوں تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کی بڑی وجہ سیکیورٹی صورتحال اور بعض علاقوں میں ویکسینیشن ٹیموں کی محدود رسائی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ان بچوں کو مسلسل ویکسینیشن سے محروم رہنے کی صورت میں پولیو وائرس کی منتقلی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ World Health Organization

افغانستان میں انسداد پولیو مہمات کو بھی کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اکتوبر 2024 سے افغانستان میں گھر گھر جاکر پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہمات نہیں چلائی جارہیں اور مخصوص مقامات پر بچوں کو ویکسین پلانے کی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے، جس کے باعث خصوصاً کم عمر بچوں تک رسائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے افغانستان میں خواتین ویکسینیٹرز کی محدود شرکت پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ ادارے کے مطابق جنوبی افغانستان میں خواتین ہیلتھ ورکرز کی کم تعداد اور گھر گھر ویکسینیشن نہ ہونے سے بعض بچے حفاظتی قطروں سے محروم رہ سکتے ہیں، جس کے اثرات سرحد پار پاکستان میں بھی محسوس ہوسکتے ہیں۔

تاہم طبی ماہرین کے مطابق افغانستان سے وائرس کے جینیاتی روابط سامنے آنے کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان میں پولیو کے تمام کیسز کی وجہ صرف سرحد پار منتقلی ہے۔ پاکستان میں وائرس کی مقامی سطح پر گردش، بچوں کی ناکافی قوت مدافعت اور ویکسینیشن میں موجود خلا بھی بیماری کے برقرار رہنے کی اہم وجوہات ہیں۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا کے ضلع پشاور اور ضلع خیبر پر مشتمل پشاور بلاک میں ماحولیاتی نمونوں سے پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوچکی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ علاقے میں وائرس کی گردش جاری ہے اور ایسے بچے بھی خطرے میں ہیں جنہیں پولیو سے بچاؤ کے قطرے باقاعدگی سے نہیں پلائے گئے۔

نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق رواں سال پولیو کیسز میں مجموعی طور پر کمی ضرور آئی ہے، تاہم وائرس کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ انسداد پولیو کی کوششوں میں کسی قسم کی غفلت کی گنجائش نہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہر بچے تک ویکسین کی رسائی یقینی بنائے بغیر وائرس کی منتقلی روکنا ممکن نہیں ہوگا۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں 2024 کے دوران پولیو کے 74 جبکہ 2025 میں 31 کیس رپورٹ ہوئے تھے۔ رواں سال پانچ نومبر تک نو کیس سامنے آئے ہیں، جن میں سات خیبرپختونخوا اور دو سندھ سے رپورٹ ہوئے ہیں۔

پاکستان میں رواں سال چار بڑی انسداد پولیو مہمات مکمل کی جاچکی ہیں، جن کے دوران چار کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو متعدد مرتبہ حفاظتی قطرے پلائے گئے۔ ستمبر میں ہونے والی خصوصی مہم کے دوران بھی دو کروڑ 93 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین دی گئی تھی۔ Polio Free Pakistan +1

دریں اثنا وفاقی وزارت صحت اور نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے دو سے آٹھ نومبر تک جاری انسداد پولیو مہم کے دوران ملک کے 97 اضلاع میں تقریباً دو کروڑ 40 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے مہم کا افتتاح کرتے ہوئے والدین پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں۔ اس مہم میں دو لاکھ سے زائد فرنٹ لائن پولیو ورکرز حصہ لے رہے ہیں جبکہ پاکستان اور افغانستان میں انسداد پولیو کی سرگرمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط رکھا گیا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق پولیو ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے جو خصوصاً پانچ سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتی ہے اور بعض صورتوں میں مستقل معذوری یا موت کا سبب بن سکتی ہے۔ اس بیماری کا کوئی علاج موجود نہیں، تاہم محفوظ اور مؤثر ویکسین کے ذریعے بچوں کو اس سے بچایا جاسکتا ہے۔

حکام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ جاری مہم کے دوران پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں اور اپنے بچوں کو ہر مہم میں حفاظتی قطرے پلوائیں، چاہے انہیں پہلے بھی کئی مرتبہ ویکسین دی جاچکی ہو۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان اور افغانستان میں پولیو کا مکمل خاتمہ اسی وقت ممکن ہوگا جب دونوں ممالک میں وائرس کی مقامی گردش روکی جائے، سرحدی علاقوں میں ویکسینیشن بہتر بنائی جائے اور ہر بچے تک حفاظتی قطرے پہنچانے کے ساتھ معمول کے حفاظتی ٹیکوں کا نظام بھی مضبوط کیا جائے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں