ہر چار میں سے ایک نوجوان نفسیاتی مسائل کا شکار ہے، ماہرینِ نفسیات

کراچی: پاکستان میں ہر چار میں سے ایک نوجوان کسی نہ کسی نفسیاتی مسئلے کا شکار ہے، نوجوانوں کی ذہنی صحت کے مسائل کو نظر انداز کرنے کے بجائے انہیں سننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار ماہرِ نفسیات ڈاکٹر عائشہ ارشاد میاں نے کراچی پریس کلب میں انڈس ویلی اسکول آف آرٹ اینڈ آرکیٹیکچر اور انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کراچی کے نمائندوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے بتایا گیا کہ نوجوانوں کی ذہنی صحت سے متعلق آگاہی اور انہیں اپنے مسائل کے اظہار کا موقع فراہم کرنے کے لیے ’’کراچی بول‘‘ مہم جاری ہے، جس کے تحت چوتھے سالانہ پروگرام ’’اَن پلگڈ 2026‘‘ کا انعقاد 7 نومبر کو انڈس ویلی اسکول آف آرٹ اینڈ آرکیٹیکچر کراچی میں کیا جائے گا۔

ڈاکٹر عائشہ ارشاد میاں کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کی ذہنی صحت ایک اہم مسئلہ ہے، جس پر معاشرے میں کھل کر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو اپنے نفسیاتی مسائل بیان کرنے کے لیے ایسا ماحول فراہم کرنا ہوگا جہاں انہیں تنقید یا معاشرتی رویوں کا خوف نہ ہو۔ ذہنی صحت سے متعلق معاشرتی بدنامی اور منفی سوچ (اسٹگما) ختم کرنے کے لیے نوجوانوں کو آگے آکر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی بول مہم کا بنیادی مقصد نوجوانوں کی آواز کو معاشرے تک پہنچانا اور ان کے مسائل کو سمجھنے کے لیے خاندانوں، تعلیمی اداروں اور معاشرے کے دیگر طبقات کو متوجہ کرنا ہے۔

انڈس ویلی اسکول آف آرٹ اینڈ آرکیٹیکچر کی ڈین ڈاکٹر فائزہ مشتاق نے کہا کہ نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں، ہمارا مقصد انہیں آگے بڑھنے اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ اَن پلگڈ 2026 میں انڈس ویلی کے نوجوان بھی حصہ لیں گے، جبکہ تقریب کے دوران نوجوانوں کی جانب سے ایک میورل بھی تیار کیا جائے گا۔

آئی بی اے کراچی کے نمائندے ڈاکٹر اکبر زیدی نے کہا کہ آج کے نوجوانوں کو تعلیم، اچھے گریڈز اور مستقبل کے حوالے سے مختلف نوعیت کے دباؤ کا سامنا ہے۔ سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بھی نوجوانوں کے سامنے نئے مواقع کے ساتھ کئی چیلنجز پیدا کیے ہیں۔ ان ٹیکنالوجیز کے فوائد اپنی جگہ، تاہم ان کے منفی اثرات اور غیر متوازن استعمال کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے بتایا کہ آئی بی اے میں طلبہ کی ذہنی صحت اور رہنمائی کے لیے ویلنیس سینٹرز اور کاؤنسلرز کی سہولت موجود ہے، جہاں طلبہ کے مسائل اور کاؤنسلنگ کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر یونیورسٹی اور کالج میں طلبہ کی رہنمائی کے لیے ایڈوائزرز اور تربیت یافتہ کاؤنسلرز ہونے چاہئیں۔

ڈاکٹر اکبر زیدی کے مطابق ذہنی الجھنیں اور نفسیاتی بیماریاں بظاہر نظر نہیں آتیں، اس لیے ایسے مسائل سے دوچار افراد اکثر نظر انداز ہوجاتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں ذہنی صحت کی سہولیات اب محض اضافی سہولت نہیں بلکہ ضرورت بن چکی ہیں۔ اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنے نوجوانوں کی بات سنیں، کیونکہ آج کے دور میں نوجوانوں کو سننے اور سمجھنے والے افراد کی کمی محسوس ہوتی ہے۔

منتظمین کے مطابق اَن پلگڈ 2026 میں کراچی بھر سے 14 سے 25 سال کی عمر کے نوجوان گلوکار پیشہ ور لائیو بینڈ کے ساتھ پرفارم کریں گے۔ تقریب میں نوجوانوں کو اپنے خیالات اور احساسات کے اظہار کے لیے آرٹ اور دیگر تخلیقی سرگرمیوں میں بھی حصہ لینے کا موقع دیا جائے گا۔ اس موقع پر ایک مشترکہ آرٹ میورل تیار کرنے کے علاوہ خصوصی پلیج وال بھی قائم کی جائے گی، جہاں نوجوان تحریری طور پر بتا سکیں گے کہ وہ چاہتے ہیں کہ بڑے ان کے مسائل اور احساسات کو کس طرح سمجھیں۔

تقریب میں مختلف فلاحی اور تعلیمی اداروں سے وابستہ نوجوانوں کے لیے 450 تک مفت نشستیں مختص کی گئی ہیں، جبکہ عام شہریوں کے لیے ٹکٹ 2 ہزار روپے میں دستیاب ہوں گے۔ تقریب کے دروازے شام 7 بجے کھلیں گے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں