کراچی: عباسی شہید اسپتال میں سرنجوں کی خریداری کا معاملہ مشکوک انتظامی فیصلوں اور دستاویزی تضادات کے باعث تحقیق طلب ہوگیا۔ اسپتال کے مین اسٹور پر میونسپل کمشنر کی ٹیم کے چھاپے کے دوران حکومت سندھ کی سرکاری مہر لگی 10 ہزار سرنجیں برآمد ہوئی تھیں، جس کے بعد کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اسٹور ڈاکٹر محمد طاہر کو معطل کردیا۔ تاہم سرکاری دستاویزات کے مطابق متنازع سرنجوں کی خریداری، وصولی اور ادائیگی کی منظوری کے وقت ڈاکٹر محمد طاہر اسٹور انچارج ہی نہیں تھے، جس سے معطلی کے فیصلے اور ذمہ داری کے تعین پر اہم سوالات اٹھ گئے ہیں۔
موصول شدہ دستاویزات کے مطابق عباسی شہید اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے 6 اکتوبر 2026 کو نجی سپلائر میسرز عبداللہ انٹرپرائزز کو 5 سی سی کی 10 ہزار سرنجوں کی فراہمی کا پرچیز آرڈر جاری کیا۔ پرچیز آرڈر نمبر MS/ADA/ASH/843 کے تحت سرنجوں کی مجموعی قیمت 2 لاکھ 60 ہزار روپے مقرر کی گئی تھی۔
ریکارڈ کے مطابق سپلائر نے 8 اکتوبر کو ڈلیوری چالان نمبر 327 کے ذریعے 10 ہزار سرنجیں اسپتال کے اسٹور میں پہنچائیں، جبکہ انوائس نمبر 227 کے تحت 9 اکتوبر کو ادائیگی کی منظوری بھی دے دی گئی۔
تاہم دستاویزات میں درج عہدوں اور تعیناتیوں کی ٹائم لائن اس معاملے کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔ 6 سے 9 اکتوبر کے دوران جب سرنجوں کی خریداری کا آرڈر جاری ہوا، سامان وصول کیا گیا اور ادائیگی کی منظوری دی گئی، اس وقت ڈاکٹر کامران اللہ انصاری ڈی ایم ایس اسٹور کے عہدے پر تعینات تھے۔
کے ایم سی کے محکمہ ایچ آر ایم کے نوٹیفکیشن نمبر Sr.Dir(HRM)/KMC/2026/3003 کے مطابق ڈاکٹر محمد طاہر کو 14 اکتوبر 2026 کو ڈی ایم ایس اسٹور کی ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔ اس سے قبل وہ ڈی ایم ایس ایڈمن اینڈ اکاؤنٹس کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ اس کے باوجود 2 نومبر 2026 کو کے ایم سی کے سینئر ڈائریکٹر ایچ آر ایم نے انہیں معطل کرکے رپورٹ کرنے کی ہدایت جاری کردی۔
دوسری جانب برآمد ہونے والی سرنجوں کے کارٹن پر حکومت سندھ کی سرکاری مہر موجود ہونے کا معاملہ بھی کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ ایک طرف خریداری کا ریکارڈ نجی سپلائر سے سرنجیں خریدنے کی نشاندہی کرتا ہے تو دوسری طرف ان پر سرکاری مہر کی موجودگی سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ سرنجیں پہلے سے کسی سرکاری ادارے کے اسٹاک کا حصہ تھیں یا کسی دوسرے سرکاری اسپتال سے منتقل کی گئی تھیں۔ اس حوالے سے اسٹاک کی منتقلی اور سپلائی کے ریکارڈ کی جانچ ضروری ہے۔
دستاویزات میں ایک اور تضاد بھی سامنے آیا ہے۔ اسپتال کے پرچیز آرڈر میں سرنجوں کا برانڈ ’’ماسٹر‘‘ درج ہے، جبکہ سپلائر کے ڈلیوری چالان اور انوائس پر ’’ایپل‘‘ برانڈ لکھا گیا ہے۔ خریداری کی منظوری ایک برانڈ کے نام پر ہونے کے باوجود دوسرے برانڈ کی سرنجیں وصول کرنے کی وجوہات بھی تاحال واضح نہیں ہوسکیں۔
معاملے میں یہ سوالات بھی اہم ہیں کہ سرنجوں کی خریداری اور وصولی کے وقت متعلقہ افسران نے سامان کی جانچ کس بنیاد پر کی، حکومت سندھ کی مہر لگی سرنجیں نجی سپلائر کے ذریعے کیسے فراہم ہوئیں اور خریداری کے وقت اسٹور انچارج کی ذمہ داری کسی دوسرے افسر کے پاس ہونے کے باوجود ڈاکٹر محمد طاہر کو کس بنیاد پر معطل کیا گیا۔