کراچی: سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری (ڈی ٹی ایل) نے عام استعمال ہونے والی چھ اقسام کی ادویات کے سات مختلف بیچز کو جعلی (Spurious) قرار دے دیا ہے۔ لیبارٹری رپورٹس کے مطابق ان ادویات کے ٹیسٹ کیے گئے نمونوں میں متعلقہ دوا کا فعال جزو (Active Ingredient) موجود نہیں تھا، جس کے باعث ان کی افادیت پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔ جعلی قرار دیے گئے بیچز میں اینٹی بائیوٹکس، درد اور معدے کے امراض کی ادویات سمیت قبض کے لیے استعمال ہونے والا مشہور سیرپ بھی شامل ہے۔
سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کے ڈائریکٹر عدنان رضوی کے مطابق لیبارٹری کی رپورٹ میں ویلوسیف (Velosef) 500 ملی گرام کیپسول، آگمینٹن (Augmentin) 625 ملی گرام ٹیبلٹس، نو-سپا فورٹ (No-Spa Forte) 80 ملی گرام، میوکین (Mucaine) سسپنشن، بریکسین (Brexin) ٹیبلٹس اور لیگزوبرون (Laxoberon) لیکوئیڈ کے مخصوص بیچز کو جعلی قرار دیا گیا ہے۔ لیگزوبرون کے دو مختلف بیچز بھی لیبارٹری ٹیسٹ میں ناکام ہوئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ نمونوں کے ٹیسٹ کے دوران ویلوسیف 500 ملی گرام کیپسول کے بیچ نمبر LX3E اور آگمینٹن 625 ملی گرام ٹیبلٹس کے بیچ نمبر YT9D کے سیمپلز میں متعلقہ ادویات کے فعال اجزا موجود نہیں تھے۔ ان سیمپلز کو ڈرگ ایکٹ کے تحت جعلی قرار دیا گیا ہے۔
عدنان رضوی نے بتایا کہ پیٹ کے امراض اور دیگر طبی مسائل کے لیے استعمال ہونے والی نوسپا فورٹ 80 ملی گرام کے بیچ نمبر AN010، میوکین سسپنشن کے بیچ نمبر 257A088 اور جوڑوں کے درد کے علاج میں استعمال ہونے والی بریکسین ٹیبلٹس کے بیچ نمبر W6BC کے سیمپلز بھی ٹیسٹ میں ناکام قرار پائے۔
ڈائریکٹر سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کے مطابق قبض کے علاج کے لیے استعمال ہونے والے معروف سیرپ لیگزوبرون کے دو بیچز، نمبر 46292 اور 43445، بھی جعلی قرار دیے گئے ہیں۔ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی رپورٹ کے مطابق ان سیمپلز میں دوا کا فعال جزو سوڈیم پیکوسلفیٹ (Sodium Picosulfate) موجود نہیں تھا، جو اس دوا کا بنیادی مؤثر جزو ہے۔
عدنان رضوی نے بتایا کہ متعلقہ دوا ساز کمپنیوں نے بھی ان مخصوص بیچز سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ کمپنیوں نے ان ادویات سے متعلقہ خط لکھا ہے جس میں انہوں نے ان ادویات سے اظہار لاتعلقی کیا ہے، ویلوسیف، آگمینٹن، نوسپا فورٹ، میوکین اور بریکسین کے حوالے سے متعلقہ کمپنیوں کی جانب سے ان بیچز کو اپنی تیار کردہ ادویات تسلیم نہ کیے جانے کی اطلاع ہے۔ اسی طرح لیگزوبرون تیار کرنے والی دوا ساز کمپنی مارٹن ڈاؤ مارکر (Martin Dow Marker) نے بھی تحریری طور پر واضح کیا ہے کہ زیرِ اعتراض بیچز میں شامل سیرپ کمپنی نے تیار نہیں کیا۔
ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کے ڈائریکٹر نے ان تمام رپورٹس کو مزید قانونی کارروائی کے لیے سیکریٹری کوالٹی کنٹرول بورڈ سندھ اور پراونشل انسپکٹر آف ڈرگز کراچی ساؤتھ کو ارسال کر دیا ہے۔ لیگزوبرون کے جعلی قرار دیے گئے بیچز کے معاملے میں بھی ڈرگ ایکٹ 1976 کے تحت کارروائی کے لیے رپورٹ کوالٹی کنٹرول بورڈ سندھ کو بھیجی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کسی دوا میں اس کا بنیادی فعال جزو موجود نہ ہو تو مریض کو مطلوبہ علاج نہیں مل سکتا اور بیماری کے علاج میں تاخیر کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ بالخصوص اینٹی بائیوٹکس کے معاملے میں مؤثر دوا نہ ملنے سے انفیکشن کے علاج میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ تاہم ان مخصوص سیمپلز کے استعمال سے ہونے والے کسی نقصان یا مریضوں پر اثرات کے حوالے سے فی الحال کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔