کراچی: پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی (پی آر سی ایس) سندھ برانچ کے زیر اہتمام ’’سندھ میں موسمیاتی لچک اور آبی ماحولیاتی نظام کا انتظام‘‘ کے موضوع پر پالیسی ڈائیلاگ منعقد ہوا، جس میں سندھ واٹر پالیسی 2023 کے باب پانچ پر عمل درآمد، آبی وسائل کے تحفظ، ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
تقریب کے خصوصی مہمان سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق جج جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے کہا کہ سندھ میں 537 مقامات سے صنعتی، طبی اور شہری فضلہ بغیر مناسب ٹریٹمنٹ کے دریاؤں، نہروں اور سمندر میں خارج کیا جا رہا ہے، جس سے آبی حیات، ماحولیات اور انسانی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
انہوں نے کراچی میں نکاسی آب کے پانی کی صفائی کے ناقص انتظامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے چار ٹریٹمنٹ پلانٹس میں سے صرف ایک جزوی طور پر فعال ہے۔ انہوں نے ماڑی پور کے قریب ٹریٹمنٹ پلانٹ کے لیے مختص فنڈز کے ضیاع کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ متعلقہ منصوبوں کی مؤثر نگرانی اور ذمہ داروں کا احتساب ضروری ہے۔
جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے اسپتالوں میں خطرناک طبی فضلے کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کے انتظامات پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کے مطابق بڑے اسپتالوں میں مناسب انسینیریٹرز کی عدم دستیابی کے باعث انسانی اعضا سمیت خطرناک طبی فضلہ عام شہری کچرے میں شامل ہو رہا ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی قوانین پر مؤثر عمل درآمد، آلودگی پھیلانے والی صنعتوں کے خلاف کارروائی اور فیکٹریوں میں ویسٹ ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب یقینی بنانے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے صرف پالیسیاں بنانا کافی نہیں بلکہ ان پر عملی طور پر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔ عوام میں ماحولیاتی تحفظ سے متعلق آگاہی بڑھانے اور شجرکاری کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ماحولیاتی توازن برقرار رکھا جا سکے۔
پی آر سی ایس سندھ برانچ کے چیئرمین ریحان ہاشمی نے کہا کہ آبی ماحولیاتی نظام کا تحفظ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے، پانی کے وسائل کو پائیدار انداز میں استعمال کرنے اور موسمیاتی خطرات سے دوچار کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے اداروں کے درمیان تعاون اور مؤثر حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا۔
تقریب کے آغاز میں پی آر سی ایس سندھ کے صوبائی سیکریٹری کنور وسیم نے معزز مہمانوں کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے پالیسی ڈائیلاگ کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں، ماہرین اور دیگر فریقین کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی اور پالیسی سازی کے ساتھ اس پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔
پاکستان اکیڈمی آف انجینئرنگ کے صدر اور ایس آئی ایف سی کراچی کے مشیر بریگیڈیئر ڈاکٹر نسیم نے بھی خطاب کیا۔
سابق وزیر ماحولیات اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے چیئرمین نعمان سیگل نے ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے متعلقہ شعبوں کے درمیان تعاون کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
جرمن ریڈ کراس کے ایشیا پیسیفک ریجنل ہیڈ ایمیلیو تیخیرہ بھی تقریب میں شریک تھے۔
پالیسی ڈائیلاگ میں ماہرین اور متعلقہ فریقین نے سندھ واٹر پالیسی پر عمل درآمد میں حائل رکاوٹوں، 2027ء اور اس کے بعد کے لیے ترجیحی اقدامات اور ماحولیاتی نظام پر مبنی موسمیاتی موافقت کے لیے ادارہ جاتی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔ شرکا نے سندھ میں آبی وسائل کے تحفظ، آلودگی پر قابو پانے اور پائیدار ماحولیاتی انتظام کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔