کراچی: سندھ میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران منکی پاکس (ایم پاکس) کے 7 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت نے نگرانی، کانٹیکٹ ٹریسنگ اور مریضوں کے علاج معالجے کے اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں سب سے زیادہ 26 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ متاثرہ افراد میں 73 فیصد مرد اور 27 فیصد خواتین شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق خیرپور میں 22، سکھر میں 9 اور حیدرآباد میں 5 کیسز رپورٹ ہوئے۔ گھوٹکی، کشمور اور شہید بینظیر آباد میں تین، تین کیسز سامنے آئے ہیں۔
عمر کے لحاظ سے 9 سال تک کے بچوں میں 9 کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ 10 سے 19 سال کی عمر کے افراد میں 6 کیسز سامنے آئے۔ 20 سے 29 سال کی عمر کے افراد میں 20، 30 سے 39 سال کی عمر کے افراد میں 28، 40 سے 49 سال کی عمر کے افراد میں 14 اور 50 سے 59 سال کی عمر کے افراد میں 7 کیسز رپورٹ ہوئے۔ 60 سال کی عمر کے ایک فرد میں بھی منکی پاکس کی تصدیق ہوئی۔
محکمہ صحت سندھ کے مطابق وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے متاثرہ افراد سے رابطے میں رہنے والوں کی نشاندہی اور نگرانی کی جا رہی ہے، جبکہ سرکاری اسپتالوں میں زیر علاج مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ سرکاری اور نجی طبی مراکز کو انفیکشن سے بچاؤ اور اس پر قابو پانے کے حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری جانب سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے کراچی کے ابنِ حسن اسپتال کو سیل کر دیا ہے۔ یہ کارروائی 20 روزہ نومولود میں منکی پاکس کی تصدیق کرنے والی لیبارٹری رپورٹ کے بعد کی گئی۔ اسپتال میں انفیکشن سے بچاؤ کے انتظامات سے متعلق خدشات بھی سامنے آئے تھے۔
محکمہ صحت نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ ہاتھوں کی صفائی کا خیال رکھیں، مشتبہ یا تصدیق شدہ مریضوں کے جلدی زخموں، دانوں اور ذاتی استعمال کی اشیا سے براہ راست رابطے سے گریز کریں اور تولیے، کپڑے یا بستر مشترکہ طور پر استعمال نہ کریں۔
محکمہ صحت کے مطابق جلد پر غیر معمولی دانے، چھالے یا زخم نمودار ہونے کی صورت میں فوری طبی معائنہ کرایا جائے، خصوصاً اگر کسی متاثرہ یا مشتبہ شخص سے قریبی رابطہ رہا ہو۔ عوام کو غیر مصدقہ اطلاعات سوشل میڈیا پر پھیلانے سے گریز اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری معلومات پر اعتماد کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔