کراچی: پاکستانی کے معاشی حب شہر قائد میں منکی پاکس (ایم پاکس) سے متاثرہ دو ماہ کا بچہ انتقال کرگیا، جس کے بعد صوبے میں اس بیماری سے ہونے والی اموات کی تعداد 12 ہوگئی ہے۔ بچے کا تعلق کراچی کے ضلع ملیر سے تھا اور وہ کراچی کے متعدی امراض کے اسپتال نیپا میں زیر علاج تھا۔ اسپتال کے ترجمان نے بچے کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا انتقال منکی پاکس کے باعث ہوا۔
اسپتال حکام کے مطابق بیالیس دن بچے کو چند روز قبل ایک نجی اسپتال سے متعدی امراض کے اسپتال منتقل کیا گیا تھا اور بچی 12 روز تک زیر علاج رہنے کے بعد زندگی کی بازی ہار گیا۔ حکام کے مطابق بچے کی عمر 54 دن تھی۔
ذرائع کے مطابق بچے کا ختنہ تقریباً 20 روز قبل کیا گیا تھا۔ جس اسپتال میں بچے کا ختنہ کیا گیا تھا، وہاں انفیکشن سے بچاؤ اور حفاظتی انتظامات سے متعلق خدشات سامنے آنے کے بعد سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی ٹیم نے اسپتال سیل کر دیا تھا۔
محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال سندھ میں منکی پاکس کے مجموعی طور پر 98 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جبکہ تازہ انتقال کے بعد اموات کی تعداد 12 ہوگئی ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران صوبے میں منکی پاکس کے مزید سات کیسز سامنے آنے کی اطلاع بھی دی گئی تھی۔
محکمہ صحت سندھ کے مطابق کراچی میں 26 کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ خیرپور میں 22، سکھر میں 9 اور حیدرآباد میں 5 کیسز سامنے آئے۔ گھوٹکی، کشمور اور شہید بینظیر آباد میں تین، تین کیسز رپورٹ ہوئے۔
محکمہ صحت سندھ نے منکی پاکس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نگرانی، متاثرہ افراد سے رابطے میں رہنے والوں کی نشاندہی اور مریضوں کے علاج معالجے کے اقدامات سخت کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سرکاری اور نجی اسپتالوں کو انفیکشن سے بچاؤ اور اس پر قابو پانے کے ضابطوں پر سختی سے عمل کرنے کا کہا گیا ہے۔
ماہرین نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ ہاتھوں کی صفائی کا خیال رکھیں، مشتبہ یا تصدیق شدہ مریضوں کے جلدی زخموں اور دانوں سے براہ راست رابطے سے گریز کریں اور تولیے، کپڑے، بستر سمیت ذاتی استعمال کی اشیا مشترکہ طور پر استعمال نہ کریں۔
جلد پر غیر معمولی دانے، چھالے یا زخم ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طبی معائنہ کرانے اور ممکنہ طور پر متاثرہ شخص سے رابطے کی تفصیلات ڈاکٹر کو بتانے کی ہدایت کی گئی ہے۔