کراچی: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ جامعہ کراچی کو کئی سال بعد ایسا وائس چانسلر ملا ہے جو اپنے شعبے پر بھرپور دسترس رکھتا ہے۔ ڈاکٹر وسیم قاضی نے مختصر وقت میں جامعہ کے مسائل کی درست تشخیص کی ہے، تاہم بہتری راتوں رات نہیں آتی، پہلے مسائل کو سمجھنا اور پھر ان کا حل تلاش کرنا ہوتا ہے۔
جامعہ کراچی کے شعبہ کمپیوٹر سائنس کے تحت منعقدہ کیریئر کنیکٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جامعہ کراچی کی صورت حال بھی کراچی شہر جیسی ہے۔ وائس چانسلر ڈاکٹر وسیم قاضی کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب ادارے کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کا وقت ہے اور ہنی مون کا وقت ختم ہو چکا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 65 لاکھ بچے پیدا ہو رہے ہیں۔ ہم ہر سال نیوزی لینڈ سے بڑی آبادی اور ہر پانچ سال میں آسٹریلیا کے برابر آبادی کا اضافہ کر رہے ہیں۔ جہاں استحکام اور بہتری آئی، وہاں آبادی میں اضافے کی شرح بھی کم ہوئی۔
انہوں نے صحت کے نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہیلتھ کیئر کے شعبے کو صرف اسپتال بنانے تک محدود کر دیا گیا ہے۔ یہ حقیقی معنوں میں صحت کی دیکھ بھال نہیں بلکہ ’’بیماروں کی دیکھ بھال‘‘ بن کر رہ گیا ہے۔ صحت کا نظام صرف بیماری کے بعد علاج کا نام نہیں بلکہ خاندانی منصوبہ بندی، بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفے اور بیماریوں سے بچاؤ کے اقدامات بھی اس کا حصہ ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی کا 43 فیصد غذائی قلت کا شکار ہے، جب کہ دو کروڑ 60 لاکھ بچے اسکول نہیں جا رہے۔ ان کے مطابق ملک میں ہر سال تقریباً 11 ہزار مائیں دورانِ زچگی اور روزانہ 1300 بچے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آبادی کا بڑا حصہ اسپتالوں کا رخ کر رہا ہے، جب کہ کورونا کے بعد پیدا ہونے والے معاشی بحران سے کئی ممالک اب تک نہیں نکل سکے۔ ریاست ہر شہری کو سرکاری ملازمت فراہم نہیں کر سکتی، اس لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں کو ایسی تعلیم اور عملی مہارتیں دی جائیں جن کی بدولت انہیں روزگار کے بہتر مواقع مل سکیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ والدین اپنے بچوں کو بیرون ملک بھیجنے کے لیے پلاٹ تک فروخت کر دیتے ہیں اور انہیں کشتیوں کے ذریعے دوسرے ممالک بھیجنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ تعلیمی اداروں کو نوجوانوں کو ایسی تعلیم دینی چاہیے جس کی عالمی سطح پر طلب ہو۔
انہوں نے جامعہ کراچی میں نرسنگ اسکول کے قیام کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے درخواست دی جائے، حکومت فوری اقدامات کرے گی۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں 25 لاکھ نرسوں، جب کہ پاکستان میں 9 لاکھ نرسوں کی ضرورت ہے۔ پاکستان سے تقریباً ساڑھے پانچ ہزار نرسیں بیرون ملک کام کر رہی ہیں، جب کہ پڑوسی ملک سے ساڑھے چھ لاکھ نرسیں بیرون ملک خدمات انجام دے رہی ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ جامعات کا مقصد صرف گریجویٹس پیدا کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ نوجوانوں کو عملی زندگی کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنا بھی ضروری ہے۔
انہوں نے ملک میں انتظامی ڈھانچے پر جاری بحث کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ سنجیدگی سے اس بات پر مکالمہ ہو رہا ہے کہ آیا موجودہ نظام مؤثر ثابت ہوا ہے اور کیا نئے انتظامی یونٹس بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک چلانے والوں کو بھی اس بات کا ادراک ہو گیا ہے کہ موجودہ نظام کے تحت ملک کو آگے لے جانے میں مشکلات درپیش ہیں۔