اسلام آباد: پاکستان کے ممتاز ماہرینِ صحت، پبلک ہیلتھ پروفیشنلز اور سابق وزرائے صحت نے وفاقی اور صوبائی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بیماریوں کے ڈیٹا کو خفیہ رکھنے کی روش فوری ختم کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ خاص طور پر ایچ آئی وی کے درست اعداد و شمار چھپانے سے نہ صرف اس کے تدارک کے لیے اقدامات متاثر ہو رہے ہیں بلکہ وائرس عام آبادی میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔
یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 12 سے 15 ماہ میں ملک بھر میں کم از کم 2,108 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تعداد غیر محفوظ طبی طریقوں اور انفیکشن کنٹرول کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتی ہے، جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
سابق صوبائی وزیر صحت پروفیسر جاوید اکرم نے کہا کہ ایچ آئی وی کا ڈیٹا ہرگز نہیں چھپانا چاہیے بلکہ قومی سطح پر اسکریننگ کی ضرورت ہے تاکہ بیماری کی اصل صورتحال سامنے آ سکے۔
عالمی شہرت یافتہ ماہر صحت پروفیسر ظفر بھٹہ نے بھی ڈیٹا چھپانے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیماریوں کی نگرانی کا نظام کمزور ہو چکا ہے، جو ایک سنگین مسئلہ ہے۔
سابق معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کے مطابق ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کی بڑھتی تعداد تشویشناک ہے، تاہم درست تجزیے کے لیے مستقل اور قابلِ موازنہ ڈیٹا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ ڈیٹا چھپانے سے بیماری پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
ماہر امراض ڈاکٹر رانا محمد صفدر نے خبردار کیا کہ صحت سے متعلق معلومات کے تبادلے میں ہچکچاہٹ بیماریوں کے کنٹرول کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شفافیت ہی مؤثر حکمت عملی کی بنیاد ہے۔
ڈاکٹر فیصل سلطان نے بھی درست اعداد و شمار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ڈیٹا چھپایا جا رہا ہے تو اس سے بیماری کا پھیلاؤ کم نہیں ہوگا۔
ماہر وبائیات ڈاکٹر رانا جواد اصغر کے مطابق بیماریوں کے اعداد و شمار چھپانے سے ان پر قابو پانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے، جبکہ عوام اور میڈیا کا اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔
پروفیسر ثمین صدیقی نے کہا کہ ڈیٹا چھپانا دراصل مسئلے سے انکار کے مترادف ہے، جبکہ ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر پروفیسر شہزاد علی خان نے مؤقف اختیار کیا کہ اصل مسئلہ ڈیٹا اکٹھا کرنے کے نظام کی کمزوری ہے، نہ کہ اسے چھپانا۔
دوسری جانب ماہر امراض ڈاکٹر نسیم صلاح الدین نے واضح کیا کہ عوام سے صحت سے متعلق معلومات چھپانا ناقابل قبول ہے اور تمام بڑی بیماریوں کا ڈیٹا قومی سطح پر عوام کے لیے دستیاب ہونا چاہیے-