کراچی: صوبہ سندھ میں خواتین کے خلاف تشدد اور عدم تحفظ کے واقعات میں تشویشناک اضافہ سامنے آیا ہے۔ محکمہ ترقی نسواں سندھ کی جنوری تا مارچ 2026 کی سہ ماہی رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں خواتین کی شکایات کے مجموعی طور پر 663 کیسز درج کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق ٹنڈو الہیار میں خواتین پر تشدد کے واقعات میں سرِفہرست رہا، جہاں تین ماہ کے دوران 255 کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ دو خواتین کو قتل کیا گیا۔
اسی عرصے میں تین خواتین اغوا یا لاپتہ ہوئیں اور ایک خاتون جنسی زیادتی کا نشانہ بنی، جبکہ تین خواتین جنسی تشدد اور 29 جسمانی و ذہنی تشدد کا شکار ہوئیں۔
دوسرے نمبر پر جامشورو رہا جہاں 248 کیسز رپورٹ ہوئے۔ یہاں 25 خواتین جسمانی و ذہنی تشدد کا شکار بنیں جبکہ خلع اور طلاق کے کیسز بھی سرِفہرست رہے، تین ماہ میں 22 کیسز رپورٹ ہوئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مٹھی کو خواتین کے لیے نسبتاً محفوظ قرار دیا گیا جہاں صرف 2 کیسز رپورٹ ہوئے۔
دیگر اضلاع میں دادو سے 3، بدین سے 4، جیکب آباد سے 11، کشمور/کندھ کوٹ سے 14، مٹیاری سے 25، قمبرشہدادکوٹ سے 24، خیرپور سے 27 اور میرپور خاص سے 14 کیسز رپورٹ ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق کراچی میں خواتین سے متعلق 36 شکایات درج ہوئیں، جن میں ذہنی و جسمانی تشدد، ہراسانی، گھریلو ناچاقی اور سائبر کرائم شامل ہیں، تاہم طلاق یا خلع کی کوئی شکایت سامنے نہیں آئی۔
اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر درج 663 کیسز میں سے 501 کو حل کر لیا گیا جبکہ 162 کیسز تاحال زیرِ کارروائی ہیں۔
ماہرین کے مطابق سندھ کے دیہی علاقوں میں خواتین کو درپیش مسائل زیادہ سنگین ہیں، جہاں گھریلو تشدد، ہراسانی، اغوا، قتل اور خاندانی تنازعات جیسے مسائل سرِفہرست ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات اور مؤثر پالیسی سازی کو یقینی بنایا جائے۔