سندھ میں ایم پاکس کے 25 کیسز کی تصدیق، 9 اموات رپورٹ: محکمہ صحت سندھ

کراچی: صوبہ سندھ میں ایم پاکس کے بڑھتے ہوئے کیسز نے محکمہ صحت کی کارکردگی اور بیماری کی روک تھام کے اقدامات پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جہاں 14 اپریل 2026 تک مجموعی طور پر 122 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 25 کی لیبارٹری سے تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 9 اموات سامنے آئی ہیں۔

محکمہ صحت سندھ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں ایک کا تعلق کراچی اور دوسرے کا خیرپور سے ہے، جس سے صوبے میں بیماری کے پھیلاؤ کا خدشہ مزید بڑھ گیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ ضلع خیرپور ہے، جہاں 18 تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوئے۔ اس کے علاوہ سکھر سے 3 اور کراچی سے 4 کیسز سامنے آئے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بیماری سندھ کے مختلف اضلاع میں پھیل چکی ہے۔

صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اموات کی شرح تشویشناک ہے اور یہ صورتحال مؤثر نگرانی، بروقت تشخیص اور فوری طبی اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی متعدی مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مضبوط سرویلنس سسٹم اور بروقت ردعمل ناگزیر ہوتا ہے۔

محکمہ صحت سندھ کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر ہنگامی بنیادوں پر متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان میں تمام ضلعی اور بڑے ہسپتالوں میں آئسولیشن وارڈز کا قیام، نمونہ جات کی بروقت ترسیل کے لیے مربوط نظام، اور صوبے بھر میں ڈیزیز سرویلنس اینڈ رسپانس یونٹس کو فعال کرنا شامل ہے۔

مزید برآں طبی عملے اور متاثرہ افراد کے قریبی رابطوں کی ٹریسنگ، انفیکشن کنٹرول کے سخت نفاذ، طبی آلات کی مکمل جراثیم کشی اور متاثرہ علاقوں میں فعال کیس تلاش کا عمل بھی جاری ہے تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو محدود کیا جا سکے۔

محکمہ صحت سندھ نے عوام اور طبی عملے پر زور دیا ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔ اعلامیے کے مطابق علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر قریبی ہسپتال سے رجوع کیا جائے اور نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال میں خصوصی احتیاط برتی جائے۔

صحت عامہ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو ایم پاکس کے کیسز میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے باعث صحت کے نظام پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ صورتحال مؤثر نگرانی، شفاف رپورٹنگ اور فوری ردعمل کی متقاضی ہے

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں