سندھ میں روزانہ 700 سے زائد افراد آوارہ کتوں کا شکار، رواں سال چار ماہ میں 85 ہزار سے زائد شہری متاثر

کراچی: سندھ میں آوارہ کتوں کے حملے سنگین عوامی صحت کے بحران کی شکل اختیار کر گئے ہیں اور رواں سال کے پہلے چار ماہ کے دوران 85 ہزار سے زائد افراد، جن میں خواتین اور بچے بڑی تعداد میں شامل ہیں، کتوں کے کاٹنے اور حملوں کا شکار ہوئے ہیں۔

یہ تشویشناک اعداد و شمار پیر کو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح اجلاس میں پیش کیے گئے، جس میں صوبہ بھر میں انسدادِ ریبیز مہم شروع کرنے اور ریبیز سے ہونے والی قابلِ روک تھام اموات کے خلاف “زیرو ٹالرنس” پالیسی اپنانے کا اعلان کیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ جنوری سے اپریل 2026 کے دوران سندھ بھر میں کتوں کے کاٹنے کے 85 ہزار 891 کیسز رپورٹ ہوئے، جو اوسطاً روزانہ 700 سے زائد حملے بنتے ہیں۔ حکام کے مطابق صرف سال 2025 کے دوران سندھ میں دو لاکھ 85 ہزار سے زائد افراد آوارہ کتوں کے حملوں کا نشانہ بنے تھے، جس سے صوبے میں بڑھتے ہوئے ریبیز بحران کی شدت واضح ہوتی ہے۔

اجلاس میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن، وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو، وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر وقار میمن، سی ای او پی پی ایچ آئی جاوید جگیرانی، سیکریٹری صحت طاہر سانگی، دیگر اعلیٰ حکام اور انڈس اسپتال کے نمائندوں نے شرکت کی۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ریبیز ایک مہلک مگر قابلِ بچاؤ بیماری ہے اور کسی شہری کی جان ویکسین، ریبیز امیونوگلوبیولن یا بروقت علاج نہ ملنے کی وجہ سے ضائع نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ قابلِ روک تھام ریبیز اموات کے خلاف “زیرو ٹالرنس” پالیسی اختیار کر رہی ہے اور تمام سرکاری اسپتالوں اور مراکز صحت میں اینٹی ریبیز ویکسین اور امیونوگلوبیولن کی چوبیس گھنٹے دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ بھر میں کتوں کے کاٹنے کے متاثرین کے علاج کے لیے 278 ریبیز پریوینشن یونٹس اور 112 ریفرل سینٹرز قائم کیے جا چکے ہیں۔ محکمہ صحت کے مطابق 63 ہزار سے زائد متاثرین کو اینٹی ریبیز ویکسین فراہم کی جا چکی ہے جبکہ 8 ہزار 700 سے زائد افراد کو ای آر آئی جی علاج دیا گیا۔

تاہم ماہرین نے اتنی بڑی تعداد میں کتوں کے حملوں کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہری اور دیہی علاقوں میں آوارہ کتوں پر قابو پانے کے اقدامات مؤثر دکھائی نہیں دے رہے، جبکہ غریب علاقوں میں بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے حکام کو ہدایت کی کہ کسی بھی متاثرہ مریض کو ادویات، ویکسین یا طبی سہولتوں کی کمی کے باعث علاج سے محروم نہ رکھا جائے۔

اجلاس میں صوبہ بھر میں انسدادِ ریبیز آگاہی مہم شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا، جس میں محکمہ صحت، بلدیاتی ادارے، ریسکیو سروسز، تعلیمی ادارے، میڈیا اور سول سوسائٹی کو شامل کیا جائے گا۔

حکام نے بتایا کہ سات روزہ آگاہی مہم پہلے ہی ٹی وی، اخبارات، سوشل میڈیا اور تعلیمی اداروں کے ذریعے شروع کی جا چکی ہے جبکہ محکمہ اطلاعات کو سندھی، اردو اور انگریزی زبانوں میں آگاہی مہم تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ سندھ بھر میں کتوں کے کاٹنے کے کیسز، ویکسینیشن اور فالو اپ خوراکوں کی نگرانی کے لیے ایک جدید اے آر وی پیشنٹ ٹریکنگ سسٹم بھی تیار کیا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے اس ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کے نظام کو سراہتے ہوئے کہا کہ فوری ردعمل اور مؤثر مانیٹرنگ انسانی جانیں بچانے کے لیے ناگزیر ہیں۔

حکام کے مطابق سندھ کے 20 اضلاع میں آوارہ کتوں کی نس بندی اور ویکسینیشن مہم بھی جاری ہے، جس کے تحت اب تک 25 ہزار 500 سے زائد کتوں کی نس بندی اور 36 ہزار 900 سے زائد کتوں کو ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین دی جا چکی ہے۔

وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے اجلاس کو بتایا کہ مزید 11 ریبیز کنٹرول سینٹرز جلد فعال کر دیے جائیں گے تاکہ متاثرین کو علاج کی بہتر سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے معروف متعدی امراض کی ماہر مرحومہ ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ پاکستان کو ریبیز سے پاک بنانے کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، عوامی آگاہی کی کمی، علاج میں تاخیر اور ویکسین تک محدود رسائی کے باعث ریبیز اب بھی ایک سنگین خطرہ بنی ہوئی ہے، خصوصاً پسماندہ علاقوں میں صورتحال زیادہ تشویشناک ہے-

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں