کراچی: سندھ میں ایک اور ممکنہ ایچ آئی وی بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں جہاں خیرپور کے گمبٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (گمز) میں چند روز کے دوران 25 بچوں اور اسپتال کے دو ملازمین میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ متاثرہ بچوں میں سے سات کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
محکمہ صحت سندھ کے حکام نے ہفتہ کے روز تصدیق کی کہ صرف ایک دن میں مزید چار بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی جس کے بعد گزشتہ ایک ہفتے کے دوران گمز میں سامنے آنے والے متاثرہ بچوں کی تعداد 25 ہو گئی۔ ان میں سے آٹھ بچوں کو خصوصی آئسولیشن وارڈ میں داخل کیا گیا تھا جہاں ایک کمسن بچی دورانِ علاج دم توڑ گئی۔
گمز اور محکمہ صحت کے حکام نے یہ بھی تصدیق کی کہ اسپتال میں نرسنگ اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے دو ارکان بھی ایچ آئی وی سے متاثر پائے گئے ہیں جس کے بعد صحت کے ماہرین میں غیر محفوظ طبی طریقہ کار اور خون کے ذریعے منتقل ہونے والی بیماریوں کے پھیلاؤ سے متعلق تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔
ڈائریکٹر گمز ڈاکٹر رحیم بخش بھٹی نے بتایا کہ اسپتال لائے جانے والے بیشتر بچے پہلے ہی انتہائی تشویشناک حالت میں ہوتے ہیں اور انہیں اپر سندھ کے مختلف اضلاع سے ایمرجنسی علاج کیلئے ریفر کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ “شدید بیمار بچوں کو گمز لایا جا رہا ہے اور جب ان کی ایچ آئی وی اسکریننگ کی جاتی ہے تو بعض بچے ایچ آئی وی پازیٹو نکل رہے ہیں۔”
ڈاکٹر رحیم بخش بھٹی کے مطابق گمز میں ایچ آئی وی کے مریضوں کیلئے باقاعدہ علاج کا مرکز موجود نہیں، اس لیے صرف انتہائی تشویشناک بچوں کو داخل کیا جا رہا ہے جبکہ دیگر مریضوں کو لاڑکانہ، سکھر اور دوسرے اضلاع کے ایچ آئی وی مراکز بھیجا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی اسکریننگ ریپڈ ٹیسٹنگ کٹس کے ذریعے کی جا رہی ہے جبکہ ایچ آئی وی کی حتمی تصدیق پی سی آر ٹیسٹ کے ذریعے ہوتی ہے۔ ان کے مطابق سکھر، نوشہروفیروز اور نواب شاہ سے بھی بچوں کو گمز منتقل کیا جا رہا ہے اور اسپتال میں داخل تمام بچوں کی ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس بی اور سی کیلئے اسکریننگ کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ “جب ہم تمام بچوں کی اسکریننگ کرتے ہیں تو بعض بچے ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس یا دونوں بیماریوں میں مبتلا پائے جاتے ہیں۔”
حیدرآباد میں محکمہ صحت سندھ کے ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز کے حکام نے بھی نئے کیسز کی تصدیق کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ گمز میں استعمال ہونے والی تمام ایچ آئی وی اسکریننگ کٹس عالمی ادارۂ صحت سے منظور شدہ نہیں، اس لیے بعض کیسز کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
ایک سینئر صحت اہلکار نے بتایا کہ “گمز حکام نے ہفتہ کے روز مزید چار بچوں کے ایچ آئی وی پازیٹو ہونے کی اطلاع دی جس کے بعد اس ہفتے کیسز کی تعداد 25 ہو گئی ہے۔ اس وقت اسہال اور نمونیا میں مبتلا سات ایچ آئی وی متاثرہ بچے اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔”
تاہم خیرپور کے ضلعی صحت حکام اور گمز کے بعض اہلکاروں کا دعویٰ ہے کہ حالیہ ہفتوں میں سامنے آنے والے ایچ آئی وی کیسز کی اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق یکم اپریل 2026 سے اب تک کم از کم 125 افراد میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہو چکی ہے لیکن متعدد مریضوں کا ریکارڈ گمز میں دستیاب نہیں کیونکہ انہیں لاڑکانہ، سکھر اور دیگر اضلاع کے علاج مراکز منتقل کر دیا گیا تھا۔
حکام کے مطابق خیرپور اور اطراف میں حالیہ ایم پاکس وبا کے بعد فیصلہ کیا گیا تھا کہ گمز لائے جانے والے ہر بچے کی ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس بی اور سی کیلئے اسکریننگ کی جائے گی۔
ایک صحت اہلکار نے بتایا کہ “ایم پاکس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ اسپتال آنے والے تمام بچوں کی اسکریننگ کی جائے اور اب شدید بیمار بچوں میں ایچ آئی وی سب سے زیادہ سامنے آنے والی بیماریوں میں شامل ہو چکی ہے۔”
حکام نے مزید بتایا کہ سندھ کے سی ڈی سی ون کی ٹیم نے بھی عالمی ادارۂ صحت سے منظور شدہ کٹس کے ذریعے بعض بچوں کی دوبارہ اسکریننگ کی جس میں کئی کیسز دوبارہ مثبت آئے۔
محکمہ صحت سندھ نے گمز انتظامیہ کو عالمی ادارۂ صحت سے منظور شدہ ایچ آئی وی اسکریننگ کٹس فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے تاہم یہ کٹس تاحال اسپتال نہیں پہنچ سکیں۔
صحت کے ماہرین اور تحقیقات سے وابستہ حکام کے مطابق اپر سندھ میں بچوں میں ایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز کی ممکنہ وجوہات میں سرنجوں کا دوبارہ استعمال، آلودہ سوئیاں، غیر محفوظ ڈرپس، خون کی غیر محفوظ منتقلی اور بعض عطائیوں اور لاپرواہ طبی عملے کی ناقص انفیکشن کنٹرول پریکٹسز شامل ہیں۔
یہ نئے کیسز ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سندھ پہلے ہی ملک میں بچوں میں ایچ آئی وی کے سب سے زیادہ بوجھ کا شکار صوبوں میں شامل ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں 2025 کے دوران ایچ آئی وی کے 3 ہزار 859 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 2026 کے پہلے تین ماہ میں مزید 894 کیسز سامنے آئے، یعنی صوبے میں اوسطاً ہر ماہ تقریباً 300 نئے ایچ آئی وی کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ ایک بڑے اسپتال میں بچوں اور طبی عملے میں ایچ آئی وی کی تشخیص اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ بڑے پیمانے پر اسکریننگ، سخت انفیکشن کنٹرول اقدامات اور جامع وبائی تحقیقات فوری طور پر شروع کی جائیں تاکہ اپر سندھ میں بیماری کے اصل پھیلاؤ اور ذرائع کا تعین کیا جا سکے-