کراچی: جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے مبینہ واقعے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔
اسپتال انتظامیہ کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر جے پی ایم سی کی ہدایت پر کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
کمیٹی کی سربراہی گائنی وارڈ کی پروفیسر حلیمہ یاسمین کریں گی، جبکہ پروفیسر عبد الوہاب بھٹو اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر (میڈیکل) ڈاکٹر صدام صالح کمیٹی کے ارکان ہوں گے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کا اجلاس 30 مئی کو طلب کیا گیا ہے جس میں خاتون مریضہ نادیہ زوجہ اکرم سے متعلق رپورٹ ہونے والے واقعے کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی تحقیقات مکمل کرکے پیر کے روز رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر جے پی ایم سی کو جمع کروائے، جس کے بعد رپورٹ محکمہ صحت سندھ کو ارسال کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب لانڈھی کے علاقے بختاور گوٹھ سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ مریضہ نادیا اکرم کو زچگی کے لیے جناح اسپتال کے گائنی وارڈ منتقل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں اسپتال کے واش روم میں بچے کی پیدائش کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد معاملہ توجہ کا مرکز بن گیا تھا۔
متاثرہ خاندان نے الزام عائد کیا ہے کہ اسپتال عملے کی جانب سے بروقت توجہ نہ دیے جانے کے باعث خاتون کو واش روم میں بچے کو جنم دینا پڑا، جبکہ اسپتال انتظامیہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے حقائق جاننے کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کر دی ہے۔
جے پی ایم سی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا اور رپورٹ حکومت سندھ کو بھی ارسال کی جائے گی۔