خیرپور میں سات نومولود بچوں کی ہلاکت، متعدد میں ایم پاکس کی تصدیق، حکومت سندھ

کراچی: ضلع خیرپور میں سات نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد محکمہ صحت سندھ نے تصدیق کی ہے کہ ان میں سے کم از کم چار بچوں میں ایم پاکس کی موجودگی لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے ثابت ہوئی ہے، تاہم حکام کے مطابق اموات کی براہ راست وجہ ایم وائرس نہیں بلکہ بچوں کی پیدائشی پیچیدگیاں تھیں۔

ترجمان محکمہ صحت سندھ کے مطابق ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور آغا خان یونیورسٹی کی لیبارٹریز میں کیے گئے ٹیسٹوں سے ضلع میں متعدد نومولود بچوں میں ایم پاکس کی تصدیق ہوئی، جبکہ مجموعی طور پر چار بچوں میں وائرس پایا گیا۔

ترجمان نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والے سات بچوں میں سے چار میں ایم پاکس مثبت آیا، تاہم طبی ماہرین کے جائزے کے مطابق اموات براہ راست وائرس سے نہیں ہوئیں۔ تمام متاثرہ بچے پیدائشی طور پر انتہائی کمزور تھے اور ان میں کم وزن، قبل از وقت پیدائش اور شدید غذائی کمی جیسی پیچیدگیاں موجود تھیں۔

یہ صورتحال پہلی بار چودہ مارچ کو سامنے آئی جب خیرپور میں نومولود بچوں میں غیر معمولی جلدی علامات رپورٹ ہوئیں۔ بعد ازاں نمونوں کو جانچ کے لیے بھیجا گیا جہاں دونوں لیبارٹریز نے وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی، جس کے بعد صوبائی حکام نے فوری تحقیقات شروع کر دیں۔

ابتدائی طور پر آٹھ نمونوں میں سے تین میں وائرس کی تصدیق ہوئی تھی، تاہم تازہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ضلع میں نومولود بچوں میں وائرس کا پھیلاؤ پہلے اندازوں سے زیادہ ہے۔

محکمہ صحت اور سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی تحقیقات میں طبی مراکز میں انفیکشن کنٹرول کے نظام میں سنگین خامیوں کی نشاندہی ہوئی ہے، جنہیں وائرس کے پھیلاؤ کی ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق ایک نجی طبی مرکز شاہانی میڈیکل سینٹر اور خیرپور میڈیکل کالج کے نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت یونٹ کو ان مقامات میں شامل کیا گیا ہے جہاں سے انفیکشن پھیلنے کا شبہ ہے۔

تحقیقات سے وابستہ ایک اہلکار کے مطابق ایک متاثرہ بچے کو ایسے انکیوبیٹر میں رکھا گیا جو بعد میں دیگر بچوں کے لیے بغیر مناسب جراثیم کشی کے استعمال کیا گیا، جس سے وائرس کی منتقلی ہوئی، جبکہ مختلف طبی مراکز کے درمیان مریضوں کی منتقلی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔

ان انکشافات کے بعد دونوں مراکز کے نوزائیدہ یونٹس کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا اور مکمل جراثیم کشی کی گئی۔ خیرپور اور سکھر کے اسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کے سخت اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں جبکہ طبی آلات کی صفائی اور نگرانی کا عمل جاری ہے۔

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کی ہدایات پر ماہرین کی ٹیموں نے ممکنہ ابتدائی کیس اور وائرس کے پھیلاؤ کے راستوں کی نشاندہی کر لی ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں رابطہ کھوج اور نگرانی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ اور مشتبہ مریضوں کے تمام رابطوں کی نگرانی کی جا رہی ہے اور ضرورت کے مطابق نمونے لیے جا رہے ہیں کیونکہ وائرس کی علامات ظاہر ہونے میں اکیس دن تک لگ سکتے ہیں۔

صوبائی حکام کے مطابق صورتحال اب قابو میں ہے اور سکھر اور خیرپور کے بڑے اسپتالوں میں ماہر ڈاکٹرز متاثرہ بچوں کی نگرانی اور علاج میں مصروف ہیں۔

تاہم وفاقی سطح پر، خصوصاً قومی ادارہ صحت اسلام آباد کے حکام نے رپورٹنگ اور رابطہ کاری میں موجود خلا پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال قومی سطح پر مربوط حکمت عملی کو متاثر کر سکتی ہے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ نومولود بچوں میں ایم پاکس کا سامنے آنا اور اسپتالوں کے اندر وائرس کی منتقلی کے شواہد صحت کے نظام میں موجود سنگین کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہیں، اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ انفیکشن کنٹرول کے اصولوں پر سختی سے عمل، شفاف رپورٹنگ اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان بہتر تعاون ہی آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ناگزیر ہے-

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

خیرپور میں سات نومولود بچوں کی ہلاکت، متعدد میں ایم پاکس کی تصدیق، حکومت سندھ

خیرپور میں بچوں میں ایم پاکس کے 3 کیسز کی تصدیق، ڈاؤ اور آغا خان لیبارٹریوں کی رپورٹ

ولیکا اسپتال میں ایم ایس سمیت 10 ملازمین معطل، تحقیقات جاری، صوبے میں کیسز بڑھنے پر تشویش بڑھ گئی