کراچی: سندھ کے ضلع خیرپور اور اس کے گرد و نواح میں کم از کم تین بچوں میں ایم پاکس (منکی پاکس)کی تصدیق ہو گئی ہے، جس کی رپورٹ شائع یونیورسٹی اور آغاخان اسپتال کی لیبارٹریوں نے دی ہے۔
محکمہ صحت سندھ کے ایک سینئر افسر کے مطابق خیرپور سے بھیجے گئے آٹھ نمونوں میں سے تین میں وائرس کی موجودگی پائی گئی۔ حکام نے بتایا کہ دونوں لیبارٹریوں نے الگ الگ جانچ کے بعد ایک جیسے نتائج دیے۔
محکمہ صحت سندھ کے حکام کے مطابق گزشتہ چند دنوں کے دوران خیرپور اور قریبی علاقوں میں کم از کم نو بچوں میں بیماری جیسی علامات سامنے آئی تھیں، جن میں جلد پر دانے اور زخم شامل ہیں۔ ان بچوں کے نمونے جانچ کے لیے کراچی بھیجے گئے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ نمونوں کی ابتدائی جانچ کے بعد وائرس کی موجودگی سامنے آئی، جس کے بعد مزید تصدیق کے لیے دوبارہ آغا خان یونیورسٹی کی لیبارٹری میں نمونے بھیجے گئے اور وہاں بھی نتائج برقرار رہے، جس سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں کہ علاقے میں وائرس پھیل رہا ہے۔
محکمہ صحت کے حکام کے مطابق معاملے کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ متاثرہ بچوں اور ان کے اہل خانہ کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ متعلقہ افراد سے رابطہ رکھنے والوں (کانٹیکٹ ٹریسنگ) کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ بعض سرکاری اور نجی طبی مراکز میں انفیکشن کنٹرول کے ناقص انتظامات وائرس کے پھیلاؤ کی ممکنہ وجہ بنے۔ ایک نجی بچوں کے اسپتال اور خیرپور میڈیکل کالج کے نوزائیدہ بچوں کے یونٹ (NICU) کو مشتبہ قرار دیا گیا ہے جہاں ایک ہی انکیوبیٹر کو مناسب جراثیم کشی کے بغیر متعدد بچوں کے لیے استعمال کیا گیا۔
اس صورتحال کے بعد متعلقہ اداروں نے ان مراکز کا معائنہ کیا، نوزائیدہ بچوں کے یونٹس کو عارضی طور پر بند کیا گیا اور مکمل ڈس انفیکشن کیا گیا۔ ساتھ ہی دیگر بچوں کے مراکز کی بھی نگرانی سخت کر دی گئی ہے۔
حکام نے بتایا کہ بیماری کی علامات ظاہر ہونے میں 5 سے 21 دن تک لگ سکتے ہیں، اس لیے مزید کیسز سامنے آنے کا خدشہ موجود ہے اور نگرانی کا عمل جاری رکھا گیا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ صحت کے مراکز میں احتیاطی تدابیر کی کمی ماضی میں بھی خطرناک وباؤں کا سبب بنی ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ایم پاکس کے کیسز میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
وفاقی اور صوبائی سطح پر ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ عالمی ادارہ صحت، یونیسیف اور دیگر بین الاقوامی ادارے بھی معاونت فراہم کر رہے ہیں تاکہ اس وبا کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔