پیما کا حکومت سے ڈاکٹرز اور طبی عملے کو تحفظ، صحت کے نظام میں اصلاحات اور تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ

کراچی: پیما کی جانب سے ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب حملے اور اسپتالوں میں ڈاکٹروں و طبی عملے کو ہراساں کیے جانے کے واقعات کے خلاف پیما ہاؤس میں ایک سیمینارکا انعقاد بہ عنوان "مسیحا آخر کن سے مسیحائی طلب کریں” کیا گیا، جس میں پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) کے مرکزی صدر ڈاکٹر عاطف حفیظ صدیقی، پیما خواتین ونگ کی مرکزی صدر ڈاکٹر ذکیہ اورنگزیب، پیما کراچی کے قائم مقام صدر ڈاکٹر ثاقب حسین انصاری، پیما خواتین ونگ کراچی کی نمائندہ ڈاکٹر جویریہ سکندر، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کراچی کے صدر اسماعیل میمن، سابق سیکریٹری پی ایم اے ڈاکٹر قیصر سجاد، ماہر امراض نسواں ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سندھ کے صدر ڈاکٹر وارث جاکھرانی اور سرپرست اعلی ڈاکٹر عمر سلطان، پاکستان ہیڈ ایک سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالمالک، پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کی سیکریٹری ڈاکٹر محسنہ نور ابراہیم، سوسائٹی آف آبسٹیٹرک اینڈ گائنی کی تزئین عباس اور ینگ نرسنگ ایسوسی ایشن کے صدر شاہد اقبال نے شرکت کی۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی صدر پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن ڈاکٹر عاطف حفیظ صدیقی نے کہا کہ صحت کا شعبہ سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کے ہاتھ میں جا چکا ہے، اشرافیہ نہیں چاہتی کہ عام آدمی کو بہتر طبی سہولیات میسر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کو اسپتالوں میں ہراساں کرنے کے خلاف قانون سازی اور طبی عملے کو تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے۔ ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب گردی کے واقعے پر احتجاج کرنے کے باعث بلوچستان کے جن ڈاکٹرز کو معطل کیا گیا ہے ان کو فورا بحال کیا جائے۔ ڈاکٹرز اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں، حکومت طاقت کے ذریعے ان کی اواز کو نہیں دبا سکتی۔
ان کا کہنا تھا کہ اسپتالوں میں ڈاکٹروں پر تشدد اور انہیں ہراساں کرنا، املاک کو نقصان پہچانا قابل سزا جرم ہونا چاہیے، طبی عملے کو اسپتالوں اور مراکز صحت میں تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ ڈاکٹرز خوف کے ماحول کے بجائے یکسوئی سے مریضوں کا علاج کرسکیں۔ ڈاکٹر کا کام مریض کو معائنہ کرنے کے بعد علاج تجویز کرنا ہے جبکہ ہسپتال کے اندر داخلے کے بستر، دیگر سہولیات اور ادویات کا مہیا کرنا ڈیوٹی ڈاکٹر کے بجائے حکومت کی ذمہ داری ہے۔
ڈاکٹر عاطف نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹرز کو کام کی جگہ پر ہراساں کرنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا خاتمہ کیا جائے جبکہ دوران ڈیوٹی ڈاکٹرز کی اسپتالوں اور طبی مراکز میں عملے کی اجازت کے بغیر ویڈیو اور تصویر کشی پر پابندی ہونی چاہیے، ہمارا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹرز کے خلاف ایف آئی آر بغیر ہیلتھ کمیشن کی کاروائی کے ہرگز درج نہ کی جائے۔ اس کے علاوہ ینگ ڈاکٹرز کے استحصال کا خاتمہ اور ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔ حکومتی نمائندوں کو حساس اور مہارت طلب طبی امور میں غیر پیشہ ورانہ مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر بیٹھے سائنسی اور مستند طریقہ علاج کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف سخت حکومتی کاروائی عمل میں لائی جائے۔
پیما خواتین ونگ کی صدر ڈاکٹر ذکیہ اورنگزیب نے کہا ٹرینی ڈاکٹروں کی تنخواہیں انتہائی کم ہیں۔ 36 سے 38 گھنٹے ڈیوٹی کرنے والے ڈاکٹر کو آرام کرنے کا موقع نہیں ملتا، لیکن اگر وہ چند لمحے آرام کرلے تو ویڈیو بنا دی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین ڈاکٹرز کو بھی ہراسانی کے واقعات کا سامنا ہے، ڈاکٹر ماہ نور کیس میں بھی اصل مسئلہ ڈاکٹروں کا تحفظ ہے جس کا سد باب کیا جانا چاہیے۔ ملک میں ڈاکٹرز کی کمی ہے اور اگر ڈاکٹروں پر تشدد اور اقدام قتل جیسے واقعات ہوتے رہے تو مستقبل میں مزید قلت کا سامنا ہوسکتا ہے۔
صدر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کراچی ڈاکٹر اسماعیل میمن نے کہا کہ ڈاکٹرز ماضی میں بھی متحد تھے اور اب بھی متحد ہیں۔ ڈاکٹر ماہ نور کے والد سے ملاقات ہوئی، انہوں نے کہا کہ اتنی مشکلات کے بعد بچوں کو پڑھاتے ہیں، لیکن ایسے واقعات کے بعد بچیوں کو اسپتال بھیجنا مشکل ہوجائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو واضح پیغام دینا ہوگا کہ ڈاکٹرز کو تحفظ فراہم کیا جائے گا، بصورت دیگر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو دوبارہ فعال کرکے احتجاج کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔
سوسائٹی آف آبسٹیٹرک اینڈ گائناکالوجی کی ڈاکٹر تزئین عباس نے کہا کہ ڈاکٹر دن رات مریضوں کی خدمت کرتے ہیں لیکن بدلے میں انہیں تحفظ نہیں ملتا۔ اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی سیکیورٹی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔
ماہر امراض نسواں ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی نے کہا کہ ڈاکٹر بننے کے لیے ایک لڑکی کو کئی مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے، مگر آج ڈاکٹرز کے خلاف دن دہاڑے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس کا دل چاہتا ہے ڈاکٹرز کو ہراساں کرتا ہے، اس صورتحال کا خاتمہ ضروری ہے۔
پیما کراچی فیمیل ونگ کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈاکٹر جویریہ سکندر نے کہا کہ نوجوان ڈاکٹرز ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں، کیونکہ انہیں سیکیورٹی سمیت بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔ حکومت کو مزید سیٹیں پیدا کرنے کے بجائے جو ڈاکٹر موجود ہیں ان کے تحفظ پر سخت توجہ دینی ہوگی کیونکہ ڈاکٹر ان نامساعد حالات کے باعث ملک چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
صدر ینگ ڈاکٹرز سندھ ڈاکٹر وارث جکھرانی نے کہا کہ مسئلہ صرف کراچی کا نہیں بلکہ پورے ملک کا ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹرز کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے۔ حکومت کو مجبور کرنا ہوگا کہ وہ صحت کے نظام اور ڈاکٹرز کے مسائل حل کرے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر عمر سلطان نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ نور کا واقعہ انتظامی ناکامی ہے۔ طبی عملے کے تحفظ سے متعلق قوانین پر عملدرآمد کیا جائے اور ہاؤس آفیسرز سے پروفیسرز تک تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔
قائم مقام صدر پیما کراچی ڈاکٹر ثاقب حسین انصاری نے کہا کہ جب ڈاکٹرز کے لیے کوئی آواز اٹھانے والا نظر نہیں آتا تو انہیں خود میدان میں آنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز کو متحد ہونا ہوگا، یہ سیمینار ایک تحریک بننا چاہیے، ہمارا یک نکاتی مطالبہ صرف یہ ہے کہ ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے۔
سابق سیکریٹری پی ایم اے ڈاکٹر قیصر سجاد نے ڈاکٹر ماہ نور کیس کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تیزاب حملہ کرنے والے ملزم کی ہلاکت کے پس پردہ محرکات سامنے آنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز ملک چھوڑ رہے ہیں کیونکہ انہیں یہاں ذہنی سکون اور تحفظ حاصل نہیں۔
پاکستان ہیڈیک سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر عبد المالک نے کہا کہ اس سیمینار کو تحریک میں بدلیں گے اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو فعال کریں گے تاکہ ڈاکٹرز کے مسائل کو حکومتی ایوانوں تک پہنچایا جائے اور انہیں حل کیا جائے۔
ینگ نرسنگ ایسوسی ایشن کے صدر شاہد اقبال نے طبی عملے کے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ جدو جہد پر زور دیا اور یقین دلایا کہ سندھ کا نرسنگ عملہ ڈاکٹرز کے ساتھ مشترکہ جدو جہد کا حصہ ہوگا۔

*جاری کردہ*
*ڈاکٹر شعیب اکرم*
*سیکریٹری نشرو اشاعت*
*پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کراچی*

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں