کراچی: ماہرین نے خواتین کی صحت، پیشہ ورانہ ترقی اور دفاتر میں سازگار ماحول کی فراہمی کے لیے سنِ یاس (Menopause) سے متعلق آگاہی بڑھانے اور اس موضوع پر کھل کر گفتگو کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
عالمی یومِ سنِ یاس کے موقع پر اسٹینڈرڈ چارٹرڈ پاکستان کے زیر اہتمام کراچی میں ایک تقریب منعقد ہوئی، جس میں بینک کے عہدیداروں، کاروباری رہنماؤں، صنعت کے نمائندوں اور ماہرین صحت نے شرکت کی۔
ماہرین نے کہا کہ سنِ یاس خواتین کی صحت کے ساتھ ان کی پیشہ ورانہ زندگی، کارکردگی اور ترقی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اس مرحلے سے گزرنے والی خواتین کو درپیش مسائل پر خاموشی اور معاشرتی جھجک ختم کرنے کے لیے اداروں کو آگاہی اور معاونت کے اقدامات کرنے چاہییں۔
اسٹینڈرڈ چارٹرڈ پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ہیڈ آف کوریج عادل صلاح الدین نے کہا کہ سنِ یاس صرف صحت اور فلاح و بہبود کا معاملہ نہیں بلکہ اس کا تعلق دفاتر میں شمولیت اور تجربہ کار ملازمین کو اداروں سے وابستہ رکھنے سے بھی ہے۔ ان کے مطابق بہت سی خواتین اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کے اہم مرحلے پر سنِ یاس سے گزرتی ہیں، جب وہ ٹیموں کی قیادت اور اداروں کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہوتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ انہیں ایسا ماحول فراہم کیا جائے جہاں وہ صحت سے متعلق مسائل کے باوجود اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا اور ترقی جاری رکھ سکیں۔
بینک کے ہیڈ آف ہیومن ریسورسز یاسر خواجہ نے کہا کہ جامع اور شمولیتی ماحول کی تشکیل کے لیے ملازمین کو زندگی کے مختلف مراحل میں درپیش حقیقی مسائل کو سمجھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق سنِ یاس ایسا موضوع ہے جس پر خصوصاً خطے میں کھل کر بات نہیں کی جاتی، تاہم آگاہی اور دیانت دارانہ گفتگو کے ذریعے خواتین کو بہتر معاونت فراہم کی جا سکتی ہے۔
تقریب میں ’’وہ گفتگو جو ہم عموماً نہیں کرتے‘‘ کے عنوان سے پینل مباحثہ بھی منعقد ہوا، جس کی نظامت اسٹینڈرڈ چارٹرڈ میں کارپوریٹ افیئرز، برانڈ اینڈ مارکیٹنگ کی سربراہ ارم علیزئی نے کی۔
مباحثے میں حبیب یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر آف پریکٹس، اداکارہ اور میزبان تزئین حسین، ایگزیکٹو کوچ اور کارپوریٹ ویلنیس کنسلٹنٹ ڈاکٹر شیزہ محسن، اور آغا خان یونیورسٹی اسپتال کے شعبۂ زچگی و امراضِ نسواں کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ندا نجمی نے شرکت کی۔
پینل میں سنِ یاس سے متعلق غلط فہمیوں، جسمانی و جذباتی صحت پر اس کے اثرات اور کام کی جگہ پر خواتین کو درپیش مشکلات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکا نے اس بات پر بھی گفتگو کی کہ ساتھی ملازمین، مینیجرز اور ادارے اس مرحلے سے گزرنے والی خواتین کی کس طرح معاونت کر سکتے ہیں۔
تقریب میں بتایا گیا کہ اسٹینڈرڈ چارٹرڈ نے سنِ یاس سے متعلق آگاہی، مشاورت اور تربیتی مواد کی فراہمی، کام کی جگہ پر ضروری سہولیات اور لچکدار اوقاتِ کار جیسے اقدامات کو اپنی ادارہ جاتی حکمت عملی کا حصہ بنایا ہے۔
بینک کے مطابق اس اقدام کا مقصد دفاتر میں ایسا ماحول فروغ دینا ہے جہاں خواتین زندگی کے مختلف مراحل میں صحت اور فلاح و بہبود سے متعلق مسائل پر بلا جھجک بات کر سکیں اور انہیں اپنے پیشہ ورانہ سفر میں آگے بڑھنے کے لیے مناسب معاونت میسر ہو۔ تقریب کے ذریعے پاکستان کی کاروباری برادری میں بھی سنِ یاس کے بارے میں بہتر آگاہی اور مثبت گفتگو کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی۔