پی کے ایل آئی میں دنیا کی پہلی 10 طرفہ جگر کی پیوندکاری، 24 گھنٹوں میں 10 مریضوں کو نئی زندگی مل گئی

اسلام آباد: پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ (پی کے ایل آئی) لاہور نے دنیا کی پہلی 10 طرفہ لیور ٹرانسپلانٹ سویپ چین (10-way liver transplant swap chain) مکمل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے صرف 24 گھنٹوں میں 10 مریضوں اور 10 عطیہ دہندگان پر مشتمل 20 بڑے آپریشن کامیابی سے انجام دے دیے، جس سے ایسے مریضوں کی بھی پیوندکاری ممکن ہو گئی جن کے اہل خانہ میں موجود عطیہ دہندگان طبی طور پر ان کے لیے موزوں نہیں تھے۔

10 طرفہ سویپ چین (Swap Chain) دراصل 10 ایسے خاندانوں کا ایک منظم سلسلہ تھا جن میں عطیہ دہندگان اپنے اپنے مریضوں کو جگر عطیہ نہیں کر سکتے تھے، لیکن ایک دوسرے کے مریضوں کے لیے موزوں ثابت ہوئے۔ اس طرح ہر عطیہ دہندہ نے کسی دوسرے خاندان کے مریض کو جگر کا حصہ عطیہ کیا اور بالآخر تمام 10 مریضوں کو کامیاب پیوندکاری کا موقع مل گیا۔

پی کے ایل آئی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر فیصل سعود ڈار کی سربراہی اور نگرانی میں متعدد سرجیکل، اینستھیزیا، آئی سی یو اور ٹرانسپلانٹ ٹیموں نے یہ پیچیدہ عمل مکمل کیا، جس نے ترکیہ میں حال ہی میں انجام دی گئی آٹھ طرفہ کراس لیور ٹرانسپلانٹ کا ریکارڈ بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

پروفیسر ڈاکٹر فیصل سعود ڈار نے کہا کہ دنیا کی پہلی 10 طرفہ لیور ٹرانسپلانٹ سویپ چین کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ عطیہ دہندہ اور مریض کے درمیان عدم مطابقت اب پیوندکاری کی راہ میں ناقابل عبور رکاوٹ نہیں رہی۔ ان کے بقول بڑے ڈونر پول اور منظم تبادلے کے ذریعے بظاہر ناممکن نظر آنے والے کیسز کو بھی کامیاب پیوندکاری میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سویپ یا پیئرڈ ڈونر ایکسچینج اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب کسی مریض کا قریبی عزیز خون کے گروپ میں فرق، جگر کے ناکافی حجم، پیچیدہ شریانوں یا دیگر طبی وجوہات کی بنا پر براہ راست عطیہ نہیں دے سکتا۔ ایسے میں مختلف خاندانوں کے مریضوں اور عطیہ دہندگان کو ایک زنجیر کی صورت میں جوڑ کر ہر مریض کے لیے موزوں عطیہ دہندہ تلاش کیا جاتا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر فیصل سعود ڈار کے مطابق اس 10 طرفہ چین میں شامل مریض ہیپاٹائٹس بی اور سی سے پیدا ہونے والے دائمی جگر کے امراض، جگر کے سرطان، بڈ چیاری سنڈروم، آٹو امیون ہیپاٹائٹس اور بلیئری ایٹریشیا جیسے امراض میں مبتلا تھے۔

مختلف کیسز میں خون کے گروپ کی عدم مطابقت، جگر کے حجم میں کمی، پیچیدہ شریانی اور وریدی ساخت اور کراس میچ کے مسائل کے باعث براہ راست پیوندکاری ممکن نہیں تھی، تاہم سویپ پروگرام کے ذریعے تمام 10 مریضوں کی کامیاب پیوندکاری ممکن بنائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ لیونگ ڈونر ٹرانسپلانٹ میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اہل خانہ عطیہ دینے کے لیے تیار ہوتے ہیں لیکن طبی وجوہات کی بنا پر اپنے مریض کو جگر نہیں دے سکتے، جس سے مریضوں کے لیے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق منظم سویپ پروگرام ایسے مریضوں کے لیے ایک مؤثر اور اخلاقی حل فراہم کرتے ہیں اور عطیہ دہندگان کے دائرے کو وسیع کرتے ہیں۔

پی کے ایل آئی کے مطابق تمام 20 آپریشن صرف 24 گھنٹوں میں مکمل کیے گئے، جس کے لیے طویل منصوبہ بندی، مختلف شعبوں کے درمیان قریبی تعاون اور انتہائی نگہداشت کی جامع سہولیات درکار تھیں۔

پروفیسر ڈاکٹر فیصل سعود ڈار نے کہا کہ اس کامیابی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرانسپلانٹ کے میدان میں اصل مسئلہ عطیہ دہندگان کی کمی نہیں بلکہ موزوں ڈونرز کے محدود دائرے کا ہونا ہے۔

انہوں نے ملک بھر کے ٹرانسپلانٹ مراکز کو ایک قومی سویپ لیور ٹرانسپلانٹ پروگرام کے تحت مربوط کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر مختلف شہروں اور صوبوں کے غیر مطابقت رکھنے والے مریضوں اور عطیہ دہندگان کا مرکزی رجسٹر قائم کیا جائے تو جدید میچنگ سسٹم کے ذریعے زیادہ مریضوں کو پیوندکاری کا موقع فراہم کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کی پہلی 10 طرفہ سویپ چین صرف ایک طبی سنگ میل نہیں بلکہ اس بات کی مثال ہے کہ جدید طب، باہمی تعاون اور اخلاقی اصولوں کی بدولت ناممکن دکھائی دینے والی رکاوٹوں کو بھی زندگی بچانے کے مواقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر فیصل سعود ڈار کے مطابق دس عطیہ دہندگان، دس مریض اور ایک ہی دن میں بیس بڑے آپریشن اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب مریض کو نظام کا مرکز بنایا جائے تو مربوط طبی ٹیمیں کیا کچھ حاصل کر سکتی ہیں۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں