کراچی: پاکستان میں بچوں کی صحت کی دیکھ بھال کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے آغا خان یونیورسٹی نے "اے کے یو مینوئل آف پیڈیاٹرکس” متعارف کرا دیا ہے۔ یہ ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا مفت ڈیجیٹل کلینیکل رہنما ہے، جس میں بچوں کے امراض سے متعلق 14 ذیلی شعبوں پر مشتمل 88 شواہد پر مبنی طبی رہنما اصول شامل کیے گئے ہیں۔ اس مینوئل کا مقصد ملک بھر میں ڈاکٹروں کو جدید، یکساں اور مقامی ضروریات سے ہم آہنگ طبی رہنمائی فراہم کرنا ہے۔
آغا خان یونیورسٹی کے شعبہ اطفال و چائلڈ ہیلتھ اور سینٹر فار کلینیکل بیسٹ پریکٹسز کے اشتراک سے تیار کیے گئے اس مینوئل کی رونمائی ایک تقریب میں کی گئی، جس میں وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان کے صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے شواہد پر مبنی اور قابلِ عمل طبی رہنمائی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق اے کے یو مینوئل آف پیڈیاٹرکس بچوں کے علاج کے معیار اور یکسانیت کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
مینوئل ماہرین اطفال، فیملی فزیشنز، میڈیکل آفیسرز، ریزیڈنٹس اور دیگر طبی ماہرین کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس میں مریض کے بستر پر فوری استعمال کے قابل (Bedside-ready) اور علاج کے مقام پر دستیاب (Point-of-Care) رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔ یہ رہنما پاکستان کے مقامی طبی حالات اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے اور ویب سائٹ و موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے مفت دستیاب ہوگا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آغا خان یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر سلیمان شہاب الدین نے کہا کہ اس مینوئل کا مقصد صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کو قابل اعتماد اور شواہد پر مبنی علمی رہنمائی فراہم کرنا ہے تاکہ ہر بچے کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات میسر آسکیں۔
آغا خان یونیورسٹی کے شعبہ اطفال و چائلڈ ہیلتھ کی چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر فیضہ جہاں نے کہا کہ اگرچہ سائنس عالمگیر ہوتی ہے، تاہم اس کا مؤثر اطلاق ہمیشہ مقامی حالات کے مطابق کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ مینوئل عالمی طبی شواہد کو پاکستان کے تناظر میں قابلِ عمل بنانے کی ایک اہم کوشش ہے۔
اس مینوئل کے ایڈیٹر اِن چیف آغا خان یونیورسٹی میڈیکل کالج کے سابق ڈین ڈاکٹر عادل ایچ حیدر ہیں۔ تقریب میں پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل، آرمڈ فورسز پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ، سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیونیٹولوجی سمیت مختلف طبی اداروں کے نمائندوں، ماہرین اطفال اور دیگر صحت کے شعبے سے وابستہ افراد نے بھی شرکت کی۔
اس موقع پر کلیدی خطابات اور پینل مباحثے کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مقامی سطح پر تیار کردہ شواہد پر مبنی طبی رہنما اصول بچوں کی بیماریوں کے بہتر علاج اور صحت کے نتائج میں نمایاں بہتری لا سکتے ہیں۔