اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں گزشتہ پانچ روز سے ادویات سے بھری گاڑیوں کے داخلے پر پابندی کے باعث ممکنہ بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے-
وفاقی وزارت صحت کے مطابق مقامی اور ملٹی نیشنل ادویہ ساز کمپنیوں کی درجنوں گاڑیاں ترنول، روات اور 26 نمبر ناکوں پر روکی گئی ہیں، جن میں جان بچانے والی ادویات، ویکسینز اور انسولین کی بڑی کھیپ شامل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان گاڑیوں میں بڑی مقدار میں ٹمپریچر سینسیٹو ادویات بھی موجود ہیں، جن کے طویل تاخیر کے باعث خراب ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
فارماسیوٹیکل کمپنیوں اور وفاقی وزارت صحت نے اسلام آباد انتظامیہ سے فوری طور پر ادویات کی گاڑیوں کو شہر میں داخلے کی اجازت دینے کی درخواست کی ہے۔ وزارت صحت کے حکام کے مطابق اگر ادویات کی ترسیل مزید تاخیر کا شکار ہوئی تو اسپتالوں اور فارمیسیز میں شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے، جس سے مریضوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
وفاقی وزارت صحت نے اس معاملے پر ضلعی انتظامیہ سے باقاعدہ رابطہ کیا ہے اور صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کیا ہے۔ وزارت کے ایک سینئر عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ ادویات کی مسلسل بندش سے صحت کا نظام دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے اور ہنگامی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
ادھر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبیداللہ نے بھی کمشنر اسلام آباد سے رابطہ کر کے ادویات کی فوری ترسیل کی اجازت دینے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جان بچانے والی ادویات اور ویکسینز کی تاخیر کسی صورت قابل قبول نہیں اور فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔
ضلعی انتظامیہ نے وزارت صحت اور متعلقہ حکام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ادویات کی گاڑیوں کو آج رات یا زیادہ سے زیادہ کل صبح تک اسلام آباد میں داخلے کی اجازت دے دی جائے گی تاکہ سپلائی چین بحال ہو سکے اور ممکنہ بحران کو ٹالا جا سکے-