کراچی: کراچی کے علاقوں لانڈھی اور کورنگی کو پاگل کتے کے کاٹنے سے ہونے والی جان لیوا بیماری ریبیز کے حوالے سے ہائی رسک قرار دے دیا گیا ہے، جہاں ایک نئی طبی تحقیق میں کتے کے کاٹنے کے زخموں سے براہِ راست وائرس کی موجودگی ثابت ہو گئی ہے۔
یہ اہم تحقیق انڈس اسپتال کے ریبیز پریوینشن سینٹر میں کی گئی، جس میں پہلی بار کتے کے کاٹنے کے تازہ زخموں سے حاصل کیے گئے نمونوں میں ریبیز وائرس کا آر این اے کامیابی سے دریافت کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت ریبیز کی تشخیص اور نگرانی کے نظام میں ایک بڑی کامیابی ہے، جس سے بیماری کی بروقت نشاندہی اور پھیلاؤ کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔
معروف ماہر امراضِ متعدی نسیم صلاح الدین نے اس تحقیق کو سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ کتے کے کاٹنے کے زخموں سے وائرس کی براہِ راست تشخیص ایک بڑی پیش رفت ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کورنگی اور لانڈھی میں ریبیز وائرس بڑے پیمانے پر موجود اور متحرک ہے، جو دیگر علاقوں اور مویشیوں تک بھی پھیل سکتا ہے۔
تحقیق کے دوران 100 متاثرہ افراد کے زخموں کے نمونے لیے گئے، جن کے تجزیے سے شہر میں وائرس کی وسیع پیمانے پر پھیلاؤ کا انکشاف ہوا، خاص طور پر کورنگی اور لانڈھی کو ریبیز سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقےقرار دیا گیاہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ریبیز ایک ایسی مہلک بیماری ہے جس کی علامات ظاہر ہونے کے بعد شرح اموات تقریباً سو فیصد ہوتی ہے، تاہم بروقت طبی امداد سے اس سے مکمل طور پر بچاؤ ممکن ہے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ کتے کے کاٹنے کے فوراً بعد زخم کو صابن اور پانی سے دھونا وائرس کی شدت کم کرنے میں مؤثر ثابت ہوتا ہے، تاہم اس کے ساتھ فوری ویکسینیشن ناگزیر ہے۔ زیرِ علاج مریضوں میں سے 93 فیصد میں دو ہفتوں کے اندر مؤثر مدافعت پیدا ہو گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر سال 6 لاکھ سے زائد افراد کتے کے کاٹنے کا شکار ہوتے ہیں، جن کے علاج کے لیے لاکھوں ویکسین ڈوزز درکار ہوتی ہیں، جس سے قومی صحت کے نظام پر بھاری مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ماہرین نے اس صورتحال کو سنگین قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آوارہ کتوں کی بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کی جائے کتوں کی آبادی کو سائنسی بنیادوں پر کنٹرول کیا جائے , یبیز کی نگرانی کے نظام کو مؤثر بنایا جائے، عوام میں فوری طبی امداد سے متعلق آگاہی مہم چلائی جائے۔
ماہرین کے مطابق یہ تحقیق عالمی ادارہ صحت کے 2030 تک ریبیز کے خاتمے کے ہدف کے حصول میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، بشرطیکہ پاکستان میں فوری اور مربوط اقدامات کیے جائیں۔
صحت کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کراچی میں ریبیز وائرس کی موجودگی نہ صرف انسانوں بلکہ مویشیوں کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے، جس کے معاشی اور صحت عامہ پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کتے کا کاٹنا معمولی زخم نہیں بلکہ ایک جان لیوا خطرہ ہو سکتا ہے، جس سے بچاؤ کا واحد راستہ فوری علاج اور ویکسینیشن ہے۔