جناح اسپتال کے واش روم میں مبینہ بچے کی پیدائش کا واقعہ، تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے متاثرہ خاندان پیش، والد کے مطابق اسپتال نے غلطی تسلیم کرلی

کراچی کے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) کے واش روم میں مبینہ طور پر بچے کی پیدائش کے واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم تین رکنی کمیٹی کا اجلاس اتوار کے روز بھی جاری رہا، جہاں متاثرہ خاتون نادیہ، ان کے شوہر اکرم، نومولود بچے اور واش روم میں ڈلیوری کروانے والی خاتون کو کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق چھٹی کے روز ہونے والا اجلاس تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہا جس میں متاثرہ خاندان کے بیانات قلم بند کیے گئے۔ اس سے قبل گزشتہ روز کمیٹی نے ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز اور اسپتال کے عملے کے بیانات ریکارڈ کیے تھے جبکہ تین گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس میں سی سی ٹی وی فوٹیجز کا بھی جائزہ لیا گیا تھا۔
متاثرہ خاتون کے شوہر اکرم کا کہنا ہے کہ اسپتال انتظامیہ نے اپنی غلطی تسلیم کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جس خاتون نے واش روم میں ان کی اہلیہ کی ڈلیوری کروائی تھی، اسے بھی کمیٹی کے روبرو پیش کیا گیا۔
اکرم کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے ان کی اہلیہ اور نومولود بچے کے علاج کی پیش کش کی، تاہم انہوں نے جناح اسپتال میں مزید علاج کرانے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ رشتہ داروں سے قرض لے کر نجی اسپتال میں اپنی اہلیہ اور بچے کا علاج کروا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ نومولود بچے کا نام "آزاد” رکھا گیا ہے اور الحمدللہ بچہ اور ان کی اہلیہ دونوں صحت مند ہیں۔
متاثرہ خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں غفلت کے مرتکب ڈاکٹرز اور متعلقہ عملے کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی اپنی رپورٹ پیر کے روز محکمہ صحت سندھ کو پیش کرے گی۔ واضح رہے کہ میڈیا پر خبر نشر ہونے کے بعد محکمہ صحت سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں