کراچی کے ولیکا اسپتال میں سو سے زائد بچوں میں ایچ آئی وی کے انکشاف کے بعد معاملہ سنگین رخ اختیار کر گیا ہے۔ صوبائی محتسب کی ہدایات پر سندھ سوشل سیکیورٹی ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ نے کارروائی کرتے ہوئے سابق اور موجودہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سمیت ڈاکٹرز اور نرسز کو ملا کر مجموعی طور پر 10 ملازمین کو معطل کر دیا ہے۔ اسپتال میں ڈاکٹر غیاث الدین کو نیا ایم ایس تعینات کر دیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مختلف سطح پر تحقیقات جاری ہیں جو بچوں کے ایچ آئی وی سے متاثر ہونے کی تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق پیڈیاٹرک ڈپارٹمنٹ کے ایچ او ڈی سمیت دو ڈاکٹرز کی معطلی کے باعث بچوں کے علاج میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی پروگرام کے تحت ولیکا اسپتال میں 100 سے زائد بچوں کو رجسٹرڈ کیا جا چکا ہے، ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں میں پیچیدگیوں کے سبب سانس کے مسائل درپیش ہوتے ہیں جس کے لیے بچوں کو والدین کو گھروں پر نیوبلائزر مشینیں اور قوت مدافعت بڑھانے کے لیے دودھ بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔
سندھ میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز نے ایک بار پھر صحت کے نظام اور طبی طریقہ کار پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ آغا خان اسپتال کے ماہرین امراضِ متعدی کے مطابق یہ مرض اب مخصوص طبقات سے نکل کر عام آبادی تک پھیل رہا ہے۔
ماہر امراضِ متعدی ڈاکٹر فاطمہ میر کے مطابق پاکستان میں بچوں میں ایچ آئی وی کے تقریباً 70 فیصد کیسز ماں سے بچے میں منتقلی (ورٹیکل ٹرانسمیشن) کے ذریعے ہوتے ہیں، جبکہ باقی 30 فیصد کیسز کی بڑی وجوہات آلودہ سوئیوں کا استعمال، غیر محفوظ طبی طریقہ کار اور بغیر اسکریننگ کے خون کی منتقلی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 2016 میں لاڑکانہ اور 2019 میں بچوں کے بڑے پیمانے پر ایچ آئی وی سے متاثر ہونے کے کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔ 2019 کے واقعے میں متعدد بچے متاثر ہوئے جبکہ ان کی مائیں ایچ آئی وی سے محفوظ تھیں، جس سے واضح ہوا کہ وائرس مائوں سے منتقل ہوا۔
ڈاکٹر فاطمہ میر کے مطابق سندھ میں اگرچہ ایچ آئی وی کے علاج کے لیے تقریباً 32 مراکز موجود ہیں، لیکن صرف 12 سے 13 مراکز ایسے ہیں جہاں بچوں کا مکمل علاج ممکن ہے۔ پہلے ہر ماہ 2 سے 3 کیسز رپورٹ ہوتے تھے، جو اب بڑھ کر 5 سے 6 ہو گئے ہیں تو اس کا مطلب ہے کیسز بڑھے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسکریننگ میں اضافے سے کیسز کا سامنے آنا ایک مثبت پہلو ہے، تاہم اصل چیلنج اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔
دوسری جانب ماہر امراضِ متعدی ڈاکٹر فیصل محمود نے بھی تصدیق کی کہ ایچ آئی وی کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق ٹیسٹنگ میں اضافہ اور بیماری کا عام آبادی میں پھیلاؤ اس کی بڑی وجوہات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب یہ وائرس صرف مخصوص گروہوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اسپتالوں، کلینکس اور غیر محفوظ طبی طریقوں کے ذریعے عام افراد بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ غیر محفوظ جنسی تعلقات بھی ایک اہم سبب ہیں۔
ڈاکٹر فیصل محمود کے مطابق بعض کیسز میں دانتوں کے علاج کے دوران بھی وائرس منتقل ہونے کی اطلاعات ہیں، جو جراثیم سے پاک آلات کے استعمال نہ ہونے کی نشاندہی کرتی ہیں۔
انہوں نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ غیر ضروری انجیکشن اور ڈرپس لگوانے سے گریز کریں، مستند اسپتالوں سے پروسیجر کروائیں اور خون لگوانے کے لیے سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن سے رجسٹرڈ بلڈ بینک سے رجوع کریں