کراچی میں آوارہ کتوں کی بے قابو تعداد نے انسداد پولیو مہم کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے اور آوارہ کتے پولیو مہم میں رکاوٹ بن رہے ہیں، انڈس اسپتال کے مطابق جب جب پولیو مہم چلتی ہے پولیو رضاکار سگ گزیدگی کا شکار ہوکر اسپتال آتے ہیں۔
ہفتے کو کراچی میں میں خاتون پولیو رضاکار اور پولیو ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکار آوارہ کتوں کے کاٹنے کا نشانہ بن گئے، جس کے باعث مہم کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ صبح کے وقت زمان ٹائون کورنگی میں انسداد پولیو مہم کے دوران کتے نے کاٹ لیا جنہیں فوری طور پر انڈس اپسپتال منتقل کیا گیا اور اینٹی ریبیز ویکسین لگائی گئی۔
ہفتے ہی کے روز قائدآباد کے علاقے میں پولیو ڈیوٹی پر تعینات 21 سالہ پولیو اہلکار کو کتے نے کاٹ لیا جسے انڈس اسپتال منتقل کیا گیا، انڈس اسپتال میں ڈاگ بائیٹ کلینک کے انچارج آفتاب گوہر نے وائٹلز نیوز کو بتایا کہ قائد آباد کے علاقے سے پولیس اہلکار کو لایا گیا جسے کتے نے کاٹ لیا، دوسرے درجے کے زخم کو دیکھتے ہوئے اینٹی ریبیز ویکسین لگا دی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ماہ بھی دو سے تین پولیو رضاکار انڈس اسپتال لائے گئے تھے جنہیں کتوں نے کاٹا تھا اور انہیں اینٹی ریبیز ویکسی دین گئی، آفتاب گوہر نے بتایا کہ جب جب پولیو مہم شروع ہوتی ہے پولیو رضاکار سگ گزیدگی کا شکار ہوکر اسپتال لائے جاتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔
پولیو حکام کے مطابق پولیو مہم کے دوران ایک رضاکار کو آوارہ کتے نے کاٹ لیا، جس کے بعد متاثرہ رضاکار کو آرام کے لیے بیڈ ریسٹ پر بھیج دیا گیا۔ دوسری جانب پولیو ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکار کو قائد آباد کے علاقے میں کتے نے کاٹ لیا، پولیو حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں بھی ایک پولیو رضاکار کو کتے نے کاٹا تھا۔
انچارج ڈاگ بائٹ کلینک، انڈس اسپتال کے مطابق متاثرہ افراد کے زخم زیادہ گہرے نہیں تھے اور انہیں فوری طور پر اینٹی ریبیز ویکسین لگا دی گئی ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت ویکسینیشن نہ ہونے کی صورت میں ریبیز جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
سرکاری اسپتالوں کے اعداد و شمار کے مطابق صرف ایک ماہ کے دوران کراچی میں چار ہزار سے زائد سگ گزیدگی کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جبکہ رواں سال سندھ میں کتے کے کاٹنے سے دو افراد جان کی بازی بھی ہار چکے ہیں۔
ماہرین اور شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بلدیاتی ادارے آوارہ کتوں کے مسئلے پر فوری، مربوط اور انسانی بنیادوں پر اقدامات کریں تاکہ نہ صرف پولیو مہم کو محفوظ بنایا جا سکے بلکہ شہریوں کی جانیں بھی محفوظ رہ سکیں۔
کراچی میں آوارہ کتے پولیو مہم رکاوٹ
