کراچی میں آوارہ کتوں کی بہتات، پولیو ورکر بھی محفوظ نہ رہیں

کراچی: کراچی میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شہریوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے، جہاں بچوں کو معذوری سے بچانے والی پولیو ٹیم کی خاتون ورکر خود آوارہ کتے کا نشانہ بن گئی۔
ہفتے کے روز زمان ٹاؤن کے علاقے میں پولیو مہم کے دوران ایک خاتون پولیو ورکر گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلا رہی تھیں کہ اچانک ایک آوارہ کتے نے کاٹ لیا جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گئیں۔

واقعے کے فوراً بعد ساتھی عملہ انہیں فوری طور پر انڈس اسپتال لے گیا جہاں انہیں اینٹی ریبیز ویکسین لگا دی گئی ہے۔

واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، علاقہ مکینوں نے بلدیاتی اداروں کی غفلت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ کورنگی میں کتوں کی بہتات ہے اور جس کے نتیجے میں آئے روز کتے کسی نہ کسی کو کاٹ لیتے ہیں، سب سے زیادہ ںچے، خواتین اور بزرگ افراد کتوں کا نشانہ بنتے ہیں۔
کراچی میں کتوں کے کاٹنے سے ہونے والی جان لیوا بیماری ریبیز سے اب تک دو اموات رپورٹ ہوچکی ہیں جبکہ سگ گزیدگی کے ایک ماہ میں چار ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق کتے کے کاٹنے کے بعد فوری زخموں کی صفائی اور مکمل ویکسینیشن نہ ہونے کی صورت میں ریبیز جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بلدیاتی ادارے آوارہ کتوں کے کنٹرول کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں تاکہ شہریوں کی جان و مال کو محفوظ بنایا جا سکے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

گارڈن سے ریبیز کا کیس، 42 سالہ شخص جاں بحق، مجموعی اموات 7 ہوگئیں

انڈس ہاسپٹل اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک نے علاقائی صورتحال کے باعث ICON 2026 کانفرنس ملتوی کردی

ایکسرے روم میں رقص کی وڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنا مہنگا پڑ گیا