اسلام آباد: بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں مہلک نیپاہ وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد پاکستان نے ملک بھر میں ہائی الرٹ نافذ کرتے ہوئے تمام ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور زمینی سرحدوں پر آنے والے مسافروں کی سخت اسکریننگ، نگرانی اور فوری ردعمل کے احکامات جاری کر دیے ہیں، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ تاحال پاکستان میں نیپاہ وائرس کا کوئی تصدیق شدہ انسانی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
وزارت قومی صحت کے ماتحت بارڈر ہیلتھ سروسز پاکستان اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد کی جانب سے 28 جنوری کو جاری دو الگ الگ ایڈوائزریز میں خبردار کیا گیا ہے کہ نیپاہ وائرس ایک انتہائی خطرناک زونوٹک بیماری ہے جو جانوروں سے انسانوں اور قریبی انسانی رابطے کے ذریعے پھیل سکتی ہے، اور خطے میں آمدورفت کے باعث پاکستان کو سرحد پار سے اس کے پھیلاؤ کا حقیقی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
بارڈر ہیلتھ سروسز پاکستان نے ہدایت کی ہے کہ فوری طور پر ملک کے تمام پوائنٹس آف انٹری پر سخت اور بہتر ہیلتھ سرویلنس نافذ کی جائے، جس میں بین الاقوامی ہوائی اڈے، سمندری بندرگاہیں اور زمینی سرحدی گزرگاہیں شامل ہیں، اور اس میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ ایڈوائزری کے مطابق تمام آنے والے اور ٹرانزٹ مسافروں، عملے، ڈرائیورز اور معاون اسٹاف کی سو فیصد اسکریننگ لازم ہو گی اور کسی بھی فرد کو بارڈر ہیلتھ سروسز کی کلیئرنس کے بغیر پاکستان میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ ہر مسافر کی گزشتہ اکیس دن کی مکمل سفری اور ٹرانزٹ ہسٹری کی تصدیق کی جائے، چاہے اس کی قومیت یا سفری حیثیت کچھ بھی ہو۔ نیپاہ سے متاثرہ یا ہائی رسک علاقوں سے آنے یا وہاں سے گزرنے والے مسافروں پر خصوصی نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ سفری معلومات چھپانے یا غلط بیان کرنے کی صورت میں فوری کارروائی کا کہا گیا ہے۔
ایڈوائزری کے مطابق تمام مسافروں کا تھرمل اسکریننگ اور طبی معائنہ کیا جائے گا، جبکہ اسکریننگ اسٹاف کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نیپاہ وائرس کی ابتدائی علامات جیسے بخار، سر درد، سانس کی علامات اور اعصابی مسائل بشمول الجھن، غنودگی یا ہوش میں تبدیلی پر خصوصی توجہ دیں۔ کسی بھی مشتبہ مریض کو فوری طور پر پوائنٹ آف انٹری پر الگ تھلگ کر کے اس کی آگے نقل و حرکت روکی جائے گی اور انفیکشن پریوینشن اینڈ کنٹرول پروٹوکول کے تحت اسے متعلقہ آئسولیشن سہولت یا تیسرے درجے کے اسپتال منتقل کیا جائے گا۔
دوسری جانب نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول کی ایڈوائزری میں تصدیق کی گئی ہے کہ بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں کم از کم پانچ نیپاہ وائرس کے کیسز سامنے آ چکے ہیں، جن میں کولکتہ کے صحت کے عملے کے افراد بھی شامل ہیں۔ دستاویز کے مطابق نیپاہ وائرس کی اموات کی شرح چالیس سے پچھتر فیصد تک ہو سکتی ہے اور یہ شدید سانس کی بیماری اور جان لیوا دماغی سوزش کا سبب بنتا ہے۔
اگرچہ ایڈوائزری میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان میں اب تک کوئی انسانی کیس رپورٹ نہیں ہوا، تاہم صوبائی حکومتوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر کم از کم ایک تیسرے درجے کے اسپتال یا متعدی امراض یونٹ کو نیپاہ کے مشتبہ مریضوں کے لیے مختص کریں، تربیت یافتہ عملہ، این نائنٹی فائیو ماسکس سمیت حفاظتی سامان کی دستیابی یقینی بنائیں اور ریپڈ ریسپانس ٹیموں کو الرٹ رکھیں۔
ایڈوائزری کے مطابق نیپاہ وائرس عام طور پر پھل دار چمگادڑوں سے آلودہ خوراک کے استعمال، متاثرہ جانوروں سے براہ راست رابطے یا مریض کے جسمانی رطوبتوں کے ذریعے قریبی انسانی رابطے سے پھیلتا ہے، خاص طور پر اسپتالوں میں۔ ابتدائی علامات میں بخار، سر درد، پٹھوں میں درد اور قے شامل ہیں، جو تیزی سے دماغی سوزش، دوروں اور کوما میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔
نیپاہ وائرس کی انکیوبیشن مدت عام طور پر چار سے چودہ دن ہوتی ہے، تاہم بعض کیسز میں یہ پینتالیس دن تک بھی دیکھی گئی ہے، جس کے باعث سرحد پار خاموش منتقلی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ وائرس کی تشخیص کے لیے آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ کو معیار قرار دیا گیا ہے، جبکہ تمام نمونوں کو سخت بایو سیفٹی اور کولڈ چین کے تحت نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
صحت حکام کے مطابق اس وقت نیپاہ وائرس کے خلاف کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص اینٹی وائرل علاج دستیاب نہیں، جبکہ مریضوں کا علاج زیادہ تر معاون نگہداشت پر مشتمل ہوتا ہے اور شدید کیسز میں وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ریباویرین کے مؤثر ہونے کے شواہد غیر حتمی قرار دیے گئے ہیں۔
ایڈوائزریز میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر کے پبلک ہیلتھ ایمرجنسی آپریشنز سینٹرز کو واچ موڈ پر رکھا گیا ہے، پوائنٹس آف انٹری سے روزانہ کیس یا نِل رپورٹس لازمی قرار دی گئی ہیں اور نگرانی یا انفیکشن کنٹرول میں کسی بھی کوتاہی کو سنگین غفلت تصور کیا جائے گا۔
اگرچہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق بھارت میں موجود کیسز سے مزید پھیلاؤ کا خطرہ فی الحال کم ہے، تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ بروقت تیاری اور سخت نگرانی ہی ممکنہ بحران سے بچاؤ کا واحد راستہ ہے۔
