دواؤں پر 60 دن میں بارکوڈ سسٹم متعارف کرائیں گے، جعلی ادویات کا خاتمہ ممکن ہوگا، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال

 

کراچی: وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں دواؤں پر بارکوڈ سسٹم 60 دن میں متعارف کرایا جائے گا جس سے ہر صارف دوا کی تصدیق کرسکے گا اور جعلی ادویات کے خلاف مؤثر کارروائی ممکن ہوگی۔
وفاقی وزیر صحت پاکستان فارماسیوٹیکل اینڈ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے دفتر پہنچے جہاں پی پی ایم اے کے عہدیداران نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ چینی فارما کمپنیوں کے ساتھ بی ٹو بی کانفرنس ہونے جا رہی ہے، جس کا مقصد پاکستانی اور چینی کاروباری شراکت داروں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 85 فیصد ادویات مقامی طور پر تیار کی جاتی ہیں، تاہم 99 فیصد خام مال درآمد کیا جاتا ہے جس میں 90 فیصد خام مال چین سے آتا ہے، کوشش ہے کہ خام مال کی تیاری پاکستان میں شروع کی جائے تاکہ درآمدی انحصار کم ہو۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ دواؤں پر بارکوڈ سسٹم سے 22 انسپکٹرز کے بجائے 22 کروڑ عوام نگرانی کرسکیں گے، اس جدید نظام سے سپوریئس اور جعلی ادویات کے خلاف بڑا قدم اٹھایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جعلی ادویات کی صنعت عالمی سطح پر اربوں ڈالر کی صنعت کا حصہ ہے، جبکہ بعض ادویات کے حوالے سے عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ بیرون ملک سے آنے والی دوا زیادہ مؤثر ہے، حالانکہ یہ صرف ایک تاثر ہے۔
سید مصطفیٰ کمال نے آبادی میں اضافے کو صحت کے شعبے کا بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی آبادی ساڑھے 26 کروڑ تک پہنچ چکی ہے اور 2030 تک 30 کروڑ جبکہ 2050 تک 39 کروڑ ہونے کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ آلودہ پانی اور ماحولیاتی مسائل بیماریوں کی بڑی وجوہات ہیں، سیوریج ٹریٹمنٹ صحت کے شعبے کی ذمہ داری نہیں لیکن جب لوگ بیمار ہوں گے تو اسپتالوں پر دباؤ بڑھے گا۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 11 ہزار مائیں زچگی کے دوران جان سے جاتی ہیں، صحت کی دیکھ بھال بچے کی پیدائش سے شروع ہوتی ہے اور آگاہی کے ذریعے کئی مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آبادی کی بنیاد پر زیادہ فنڈز ملنے سے صوبوں کے پاس آبادی کنٹرول کرنے کی ترغیب نہیں، این ایف سی فارمولے میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔
مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ پاکستان نے ایک سال میں ویکسین پالیسی بنا لی ہے، ریاست 13 ویکسین خرید کر بچوں کو مفت فراہم کر رہی ہے، تاہم 2030 کے بعد عالمی اداروں کی مدد ختم ہونے سے پہلے پاکستان کو اپنی ویکسین تیاری شروع کرنا ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تیار کردہ ادویات 52 ممالک کو برآمد ہو رہی ہیں جبکہ عالمی معیار کی مزید منظوریوں کے بعد یہ تعداد 100 ممالک تک پہنچ سکتی ہے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں